پاکستانی سفیر نے امریکی تھنک ٹینکس کے سامنے بھارت کو بے نقاب کردیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر نے امریکی تھنکس ٹینکس کے سامنے بھارت کے گھناؤنے چہرے کو ایک بار پھر سے بے نقاب کردیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے امریکی تھنک ٹینکس کے اراکین سے اہم گفتگو کی۔
انہوں نے پاک بھارت تعلقات کی پیچیدگیوں، خطے میں پائیدار امن کے حوالے سے مسئلہ کشمیر کے مضمرات، حالیہ کشیدگی میں کمی لانے کے حوالے سے امریکی قیادت کے کردار، بھارتی قیادت کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے فکری رہنماؤں سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ بھارتی پارلیمنٹ میں "اکھنڈ بھارت" کا نقشہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے، مسئلہ کشمیر کے حل حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کوئی تاریخ تنسیخ نہیں ہوتی، یہ قراردادیں آج بھی اتنی اہم اور مسلمہ ہیں جتنی آج سے ستر سال پہلے تھیں، بھارت نے 2019 میں آرٹیکل 370 ختم کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 122 کی خلاف ورزی کی جو یکطرفہ اقدامات کو رد کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوہری صلاحیت نے روایتی فوجی عدم توازن کو متوازن کرکے تنازعات کی شدت اور امکانات کو کم کیا۔ جارحیت کے جواب میں پاکستان نے بھارت کی شہری آبادی کو نشانہ نہ بنا کر غیر معمولی ذمہ داری کا ثبوت دیا۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ بندی میں امریکہ کا کردار کلیدی ہے۔ جنگ بندی کی شرائط میں کشمیر، دہشت گردی اور سندھ طاس سمیت تمام تصفیہ طلب امور پر بات چیت پر آمادگی شامل تھی۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی دونوں ملکوں کی 1.
پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاک بھارت جنگ بندی بھارتی جارحانہ بیانات کے تسلسل کی بدولت کمزور ہے اور اس کے برقرار رہنے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے اعلان میں اہم کردار ادا کیا اور مشرقِ وسطیٰ کے دورے میں کئی بار کشیدگی میں کمی اور تجارت پر زور دیا۔ پاکستان توقع کرتا ہے کہ امریکا، جنگ بندی کے بعد طے شدہ طریقہ کار کے مطابق تصفیہ طلب معاملات میں پیش رفت کے حوالے سے توجہ اور کردار جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان “نئے معمول” کے نظریے کو مسترد کرتا ہے۔ جوہری ماحول میں غیر ذمہ دارانہ رویہ تباہ کن اثرات کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے مئی 2025 میں عوامی دباؤ کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا مگر ایسا صبر ہمیشہ ممکن نہیں ہوگا۔ مستقبل میں کسی بھارتی جارحیت کا جواب تحمل سے نہیں بلکہ بھرپور طاقت سے دینا ہوگا تاکہ "نئے معمول" کے تصور کو ختم کیا جا سکے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ امریکا اور عالمی برادری بھارت کو بین الاقوامی اصولوں کا پابند بنائے تاکہ خطے کو ممکنہ بحرانوں سے بچایا جا سکے، پاکستان اپنی مزاحمتی صلاحیت کو سفارتی طور پر مضبوط کررہا ہے تاکہ بھارت کے بیانیے کو چیلنج کر کے عالمی سطح پر اس کی کارروائیوں کو بے نقاب کیا جا سکے۔
انہوں نے امریکی تھنک ٹینکس کے سامنے واضح کیا کہ افغانستان کی صورتحال سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان ہے۔ افغانستان میں امن پاکستان کو وسط ایشیا کے ساتھ معاشی طور پر جوڑنے میں معاون ثابت ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی سفیر نے کے حوالے سے پاک بھارت نے کہا کہ ٹینکس کے انہوں نے
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔