فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا،وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
لاچین: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ ترکیہ اور آذربائیجان حالیہ بھارتی جارحیت کےخلاف کسی ہچکچاہٹ کے بغیر پاکستان کےساتھ کھڑے ہوئے، ہم دل سے آپ کے مشکور ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا اور پاک فضائیہ نے 6 بھارتی طیارے گرائے۔
آذربائیجان کے شہر کالاچین میں یوم آزادی کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی جس میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکت کی۔ تقریب میں نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی بھی تقریب شریک ہوئے اس موقع پر وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہاکہ ترکیہ کے ساتھ پاکستان نے بھی آذربائیجان کی جنگ میں اخلاقی وسفارتی حمایت کی، مقبوضہ علاقوں کی آزادی پرآپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، آپ کی بصیرت افروز قیادت میں 30 سال بعد کاراباخ آزاد ہوا۔
تقریب سے خطاب میں
ان کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کے عوام کو پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، آج ہم آذربائیجان کا یوم آزادی اور پاکستان کا یوم تکبیر ایک ساتھ منارہے ہیں۔
حالیہ پاک بھارت تنازع پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے ایک ایسے دشمن کے خلاف فتح حاصل کی جو 5 گنا بڑا تھا، بھارت دہائیوں سے جدید اسلحہ کی خریداری کے لیے اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا اور پاک فضائیہ نے 6 بھارتی طیارے گرائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے لیکن عالمی برادری کو پاکستان کے خلاف شواہد دینے میں ناکام رہا بلکہ پاکستان کی تحقیقات کی مخلصانہ پیشکش مسترد کردی۔
وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں مکمل حمایت پر ترکیہ اور آذربائیجان کے صدور کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ اور آذربائیجان حالیہ بھارتی جارحیت کےخلاف کسی ہچکچاہٹ کے بغیر پاکستان کےساتھ کھڑے ہوئے، ہم دل سے آپ کے مشکور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام کے دلوں میں ترکیہ، آذربائیجان کے عوام کے لیے بہت احترام ہے جب کہ کشمیر، کاراباخ اور قبرص پر ایک دوسرے کی حمایت تعلقات کی مضبوطی کا اظہار ہے۔
اس موقع پر آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ آذربائیجان کی آزادی کی تقریب میں ترکیہ کے صدر اور وزیراعظم پاکستان بھی موجود ہیں جب کہ آج کی تقریب میں ترکیہ، پاکستان کے رہنماؤں کی شرکت مضبوط دوستی کی عکاس ہے۔
الہام علیوف کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کے عوام کویوم آزادی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، آزادی کی تقریب میں ترکیہ اور پاکستان کے سربراہان بھی موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یوم آزادی کی تقریب میں برادر ملکوں ترکیہ اور پاکستان کی شرکت ہمارے لئے باعث فخر ہے، ترکیہ اور پاکستان کے رہنماؤں کی آج کی تقریب میں شرکت مضبوط دوستی کی عکاس ہے، تینوں ممالک کا تعاون مزید مستحکم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سہ فریقی اجلاس میں تینوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
صدر آذربائیجان کا کہنا تھا کہ 107 سال پہلے آذربازئیجان پہلا آزاد مسلم ملک بنا جس پر 7 سال بعد روس نے قبضہ کیا، 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد آذربائیجان آزاد ہوا مگر آرمینیا کی جارحیت جاری رہی۔
انہوں نے کہا کہ آرمینیا نے ہمارے علاقوں پر قبضے کی کوشش کی، آرمینیا نے آذربائیجان کے مختلف علاقوں میں ہمارے لوگوں کی نسل کشی کی، آرمینیا کی غاصبانہ پالیسی کی وجہ سے لاکوں آذربائیجانی شہری قتل ہوئے یا پناہ گزین بنے۔
ان کا کہنا تھا کہ 10 نومبر 2022 کو بالآخر ہم نے آرمینیا کو شکست دی اور نگورنو کاراباخ کو آزاد کرایا جب کہ آج آذربائیجان کے یوم آزادی کی تقریب اس خطے میں ہورہی ہے جسے آزاد کرایا گیا ہے۔
کاراباخ کی آزادی سے آذربائیجان مزید مضبوط ہوا، ترک صدر
تقریب سے خطاب میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترک، پاکستان اور آذربائیجان 3 ملک اور ایک قوم ہے، آذربائیجان کے عوام کو یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کے ساتھ اپنی دوستی کو مزید مضبوط بنائیں گے، کاراباخ کی آزادی سے آذربائیجان مزید مضبوط ہوا ہے، آزاد ہونیوالے علاقوں میں مختلف ہوائی اڈوں کا افتتاح کیا ہے۔
ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ ہر اچھے اور برے وقت میں آذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہے جب کہ تینوں ممالک کے ثقافت اور مذہب ایک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مبارکباد پیش کرتا ہوں فیلڈ مارشل عاصم منیر ا ذربائیجان کے عوام ان کا کہنا تھا کہ اور ا ذربائیجان ا زادی کی تقریب انہوں نے کہا کہ کہ ا ذربائیجان کی تقریب میں اور پاکستان پاکستان نے پاکستان کے یوم ا زادی قیادت میں میں ترکیہ ترکیہ اور کی ا زادی ا رمینیا ترکیہ کے ترکیہ ا کے ساتھ کے صدر
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔