آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ آذربائیجان کی آزادی کی تقریب میں ترکیہ کے صدر اور وزیراعظم پاکستان بھی موجود ہیں جب کہ آج کی تقریب میں ترکیہ، پاکستان کے رہنماؤں کی شرکت مضبوط دوستی کی عکاس ہے۔آذربائیجان کے شہر کالاچین میں یوم آزادی کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی. جس میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکت کی۔تقریب میں نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی بھی تقریب شریک تھے۔تقریب سے خطاب میں الہام علیوف کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کے عوام کویوم آزادی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں.
آزادی کی تقریب میں ترکیہ اور پاکستان کے سربراہان بھی موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یوم آزادی کی تقریب میں برادر ملکوں ترکیہ اور پاکستان کی شرکت ہمارے لئے باعث فخر ہے. ترکیہ اور پاکستان کے رہنماؤں کی آج کی تقریب میں شرکت مضبوط دوستی کی عکاس ہے.تینوں ممالک کا تعاون مزید مستحکم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سہ فریقی اجلاس میں تینوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔صدر آذربائیجان کا کہنا تھا کہ 107 سال پہلے آذربازئیجان پہلا آزاد مسلم ملک بنا جس پر 7 سال بعد روس نے قبضہ کیا. 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد آذربائیجان آزاد ہوا مگر آرمینیا کی جارحیت جاری رہی۔انہوں نے کہا کہ آرمینیا نے ہمارے علاقوں پر قبضے کی کوشش کی. آرمینیا نے آذربائیجان کے مختلف علاقوں میں ہمارے لوگوں کی نسل کشی کی. آرمینیا کی غاصبانہ پالیسی کی وجہ سے لاکوں آذربائیجانی شہری قتل ہوئے یا پناہ گزین بنے۔ان کا کہنا تھا کہ 10 نومبر 2022 کو بالآخر ہم نے آرمینیا کو شکست دی اور نگورنو کاراباخ کو آزاد کرایا جب کہ آج آذربائیجان کے یوم آزادی کی تقریب اس خطے میں ہورہی ہے جسے آزاد کرایا گیا ہے۔تقریب سے خطاب میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترک، پاکستان اور آذربائیجان 3 ملک اور ایک قوم ہے، آذربائیجان کے عوام کو یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کے ساتھ اپنی دوستی کو مزید مضبوط بنائیں گے. کاراباخ کی آزادی سے آذربائیجان مزید مضبوط ہوا ہے، آزاد ہونیوالے علاقوں میں مختلف ہوائی اڈوں کا افتتاح کیا ہے۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ ہر اچھے اور برے وقت میں آذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہے جب کہ تینوں ممالک کے ثقافت اور مذہب ایک ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ترکیہ کے ساتھ پاکستان نے بھی آذربائیجان کی جنگ میں اخلاقی وسفارتی حمایت کی، مقبوضہ علاقوں کی آزادی پرآپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، آپ کی بصیرت افروز قیادت میں 30 سال بعد کاراباخ آزاد ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کے عوام کو پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، آج ہم آذربائیجان کا یوم آزادی اور پاکستان کا یوم تکبیر ایک ساتھ منارہے ہیں۔حالیہ پاک-بھارت تنازع پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے ایک ایسے دشمن کے خلاف فتح حاصل کی جو 5 گنا بڑا تھا. بھارت دہائیوں سے جدید اسلحہ کی خریداری کے لیے اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا اور پاک فضائیہ نے 6 بھارتی طیارے گرائے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے. لیکن عالمی برادری کو پاکستان کے خلاف شواہد دینے میں ناکام رہا بلکہ پاکستان کی تحقیقات کی مخلصانہ پیشکش مسترد کردی۔وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں مکمل حمایت پر ترکیہ اور آذربائیجان کے صدور کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ اور آذربائیجان حالیہ بھارتی جارحیت کےخلاف کسی ہچکچاہٹ کے بغیر پاکستان کےساتھ کھڑے ہوئے. ہم دل سے آپ کے مشکور ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام کے دلوں میں ترکیہ، آذربائیجان کے عوام کے لیے بہت احترام ہے جب کہ کشمیر، کاراباخ اور قبرص پر ایک دوسرے کی حمایت تعلقات کی مضبوطی کا اظہار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ:
مبارکباد پیش کرتا ہوں
آذربائیجان کے عوام
آزادی کی تقریب میں
ترکیہ اور پاکستان
ان کا کہنا تھا کہ
انہوں نے کہا کہ
کہ آذربائیجان
یوم آزادی کی
پاکستان کی
پاکستان کے
میں ترکیہ
ترکیہ کے
کے ساتھ
کے صدر
پڑھیں:
گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔