لاچین: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی ہمارے 24 کروڑ عوام کی لائف لائن ہے بھارت پاکستان کا پانی روکنا چاہتا ہے جو کبھی نہیں ہوگا. پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پاس ترکیہ اور آذر بائیجان جیسے دوست موجود ہیں۔یہ بات انہوں نے آذر بائیجان کے شہر لاچین میں ترکیہ، پاکستان اور آذر بائیجان سہ فریقی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ترکیہ کے صدر طیب اردوان اور آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف نے بھی خطاب کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کانفرنس کی میزبانی پر صدر آذر بائیجان الہام علیوف کے شکرگزار ہیں.

تینوں ممالک مشترکہ مذہب، اقدار اور ثقافت میں جڑے ہیں اور تینوں بنیادی مسائل پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں. پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پاس ترکیہ اور آذر بائیجان جیسے دوست موجود ہیں۔انہوں ںے کہا کہ پہلگام واقعے کی آڑ میں بھارت نے جارحیت کا راستہ اپنایا جب کہ پاکستان نے اس واقعے کی بھرپور تحقیقات کی پیشکش کی. بھارت نے اس واقعے کے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے اور بغیر شواہد کے الزام پاکستان پرعائد کردیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کا پانی روکنا چاہتا ہے جو کبھی نہیں ہوگا. پانی ہمارے 24 کروڑ عوام کی لائف لائن ہے. ہم مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق چاہتے ہیں۔سہ فریقی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آذر بائیجان نے الہام علیوف نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور آذر بائیجان مشترکہ تاریخ اور ثقافت میں بندھے ہوئے ہیں، 2020ء میں ہوئی جنگ میں ترکیہ اور پاکستان نے ہماری بھرپور مدد کی. تینوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مںصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں.پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاع سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دے رہے ہیں. تینوں ممالک مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مل کر آگے بڑھ رہے ہیں. تینوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ہمارے لیے پریشان کن تھی. حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں آذربائیجان نے پاکستان کی بھرپور حمایت کی،تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہیے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اور ا ذر بائیجان تینوں ممالک ترکیہ اور نے کہا کہ

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف