روسی تیل خریدا تو بھارت، چین، برازیل کی معیشت تباہ کر دیں گے، امریکا کی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت، چین اور برازیل روس سے سستا تیل خریدتے رہے تو ان پر بھاری محصولات عائد کیے جائیں گے۔ فاکس نیوز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر روسی تیل خریدنا بند نہ کیا تو ہم تمہاری معیشت کچل دیں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا ہے کہ اگر روس نے 50 دن میں جنگ بندی نہ کی تو روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد ثانوی ٹیکس لگایا جائے گا۔ ریپبلکن و ڈیموکریٹ سینیٹرز نے مشترکہ بل بھی پیش کیا ہے جس میں 500 فیصد تک محصولات کی تجویز ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت روسی تیل کہاں فروخت کر رہا ہے؟ راز فاش ہوگیا
بھارت نے روسی تیل کی خریداری کا دفاع کرتے ہوئے اسے توانائی تحفظ کا معاملہ قرار دیا ہے، جبکہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا کہنا ہے کہ وہ سینیٹر گراہم سے رابطے میں ہیں۔
???????????? US Senator threatens to CRUSH BRICS economies
“If you [INDIA, CHINA, and BRAZIL] keep buying cheap Russian oil… we’re going to tariff the hell out of you,” said Lindsey Graham*
*recognised as a terrorist in Russia pic.
— Sputnik India (@Sputnik_India) July 21, 2025
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین میں جاری جنگ کے تناظر میں روس کے مالیاتی سپورٹرز کے خلاف امریکی حلقوں میں بیانات سخت تر ہو رہے ہیں۔ سینیٹر گراہم کی رائے امریکی ریپبلکن پارٹی کے ان عناصر کے مؤقف سے ہم آہنگ ہے جو روس کو معاشی طور پر تنہا کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم برازیل بھارت، چین روسی تیل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم برازیل بھارت چین روسی تیل روسی تیل
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔