اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا کہنا ہے کہ جب آپ نیوکلیئرویپنز کی بات کرتے ہیں تو اس کا کنٹرول اور اس کی سیفٹی جو ہے وہ ایک بہت اہم شعبہ ہے، اس پرہم نے ہمیشہ سے بہت احتیاط سے اس کی پلاننگ کی ہے، اس کی ڈیزائننگ کی ہے، دنیا میں جتنے بھی کمانڈ اینڈ کنٹرول بگ فائیو پاورز کے ان کے جو بیسٹ فیچرز تھے وہ لیکر ان کو ایک جگہ سمو کر ہم نے اپنا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بنایا۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ1998-1999کی بات ہے اس کا پہلا ڈرافٹ میں نے ہی بنایا، مجھے اس کا اتنا پتہ نہیں تھا مگر پڑھ پڑھا کر بنا لیا پھر ہمارے ڈیفنس اسپیشلسٹ نے اپنی ان پٹس دیں، پاکستان نے ٹیکٹیکل ویپنز ڈیولپ کیے ہوئے ہیں، صرف ساٹھ، ستر کلومیٹرشارٹ رینج میزائل بنائے ہیں جو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ لگاتے ہیں۔

عمران کی رہائی کیلئے تحریک: غیر حاضر اراکین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

انڈیا کے پانی روکنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ ایک بٹن دبائیں گے توان کے ڈیم اڑ جائیں گے ہمارے لیے تو مسئلہ نہیں ہے ڈیم اڑانا، ان کو بھی پتہ ہے اور ہمیں بھی پتہ ہے 28 مئی کے ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ مجھے پرائم منسٹر نے مغرب کے وقت بلایا اور پوچھا کہ آپ کی تیاری کیسی ہے؟ ہم کر سکتے ہیں کہ نہیں کر سکتے؟ میں نے کہا کہ ہماری تیاری پوری ہے، سب کچھ کر سکتے ہیں۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف