ریاستی ستون نے پاکستان میں مصنوعی بحران پیدا کیے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں مصنوعی بحران ریاستی ستون نے پیدا کیے، ملک کے سیاسی بحران کبھی اسٹیبلشمنٹ اور کبھی عدلیہ کی جانب سے پیدا کیے گئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار میں یوم تکبیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 2017 سے عدلیہ کو سیاست میں ملوث کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، یہی بات چھبیسویں آئینی ترمیم کی وجہ بنی۔
احسن اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایسے فیصلے کیے جو سپریم کورٹ کو ہی درست کرنے پڑے، پاکستان میں بحران مصنوعی تھا جو ریاست کے کسی ایک ستون نے پیدا کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے سیاسی بحران کبھی اسٹیبلشمنٹ اور کبھی عدلیہ کی جانب سے پیدا کیے گئے، آج اس بات پر سب متفق ہیں کہ ملک کو استحکام کی طرف لے کر جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کہہ چکے ہیں کہ وہ خود کو سیاست سے الگ رکھتے ہیں، عدلیہ کا کندھا بھی کسی سیاسی جنگ کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
’پاکستان کلیدی تجارتی اور لاجسٹک مرکز بننے کے لیے پرعزم ہے‘
قبل ازیں اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ پانچویں سی اے آر ای سی انسٹیٹیوٹ سالانہ تحقیقی کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان "اُڑان پاکستان” وژن کے تحت پائیدار ترقی، علاقائی روابط، ڈیجیٹل تجارت اور سبز توانائی کے فروغ کے ذریعے وسطی و جنوبی ایشیا کے لیے ایک کلیدی تجارتی اور لاجسٹک مرکز بننے کے لیے پرعزم ہے۔
کانفرنس کا موضوع "کاریک کنیکٹیویٹی: تجارت اور تجارتی سہولت کا فروغ” تھا، جس میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی )،کاریک انسٹیٹیوٹ، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ )، اور یونیورسٹی آف سرگودھا کے اشتراک سے اعلیٰ سطحی نمائندگان، ماہرینِ معیشت، اسکالرز اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔
احسن اقبال نے کہا کہ آج کا دور "علاقائی حقیقت پسندی” کا ہے، جہاں دنیا کو موسمیاتی تبدیلی، جغرافیائی سیاسی تناؤ، اور ٹیکنالوجی میں انقلاب جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
ایسی صورتحال میں وسطی ایشیائی علاقائی اقتصادی تعاون ممالک کو اپنی باہمی تجارت اور تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔وفاقی وزیر نے توجہ دلائی کہ کاریک ممالک (چین کے علاوہ) کے درمیان باہمی تجارت صرف 7 فیصد ہے، جب کہ آسیان ممالک میں یہ شرح 22 فیصد سے زائد ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ کمی جغرافیہ کی نہیں، بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی، ناقص لاجسٹکس، اور غیر مربوط ضوابط کی وجہ سے ہے۔
انہوں نے معروف معیشت دان پال کولیئر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اُڑان پاکستان – ترقی کا نیا وژن ہے۔
انہوں نے "اُڑان پاکستان” کے پانچ ستونوں پر تفصیلاً روشنی ڈالی جس میں برآمدات ،ترقی کا انجن ،مساوات اور بااختیاری ، تمام طبقات کی شمولیت، ای-پاکستان ، ڈیجیٹل انقلاب کی جانب پیش قدمی، ماحولیات،خوراک، پانی اور موسمیاتی تحفظ اور توانائی و انفراسٹرکچر و صنعتی ترقی کا ایندھن شامل ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.
وفاقی وزیر نے پاکستان سنگل ونڈو کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کسٹمز کلیرنس کا وقت آٹھ دن سے گھٹ کر صرف 48 گھنٹے رہ گیا ہے، اور اب اسے وسطی ایشیائی راہداریوں سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ پورے کاریک خطے میں ڈیجیٹل تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔
ٹی آئی آ ر کنونشن کے تحت پاکستان نے چین، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان سینکڑوں ٹرکوں کی بین الاقوامی نقل و حمل کو ممکن بنایا ہے، جس سے لاگت میں 30 فیصد اور وقت میں 50 فیصد تک کمی آئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری ایک علاقائی اثاثہ ہے، جس کے ذریعے 3,000 کلومیٹر سے زائد سڑکیں تعمیر ہو چکی ہیں، 11 گیگا واٹ بجلی شامل کی جا چکی ہے، اور گوادر بندرگاہ کو ایک علاقائی گیٹ وے بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ صنعتی تعاون اور خصوصی اقتصادی زونز پر مبنی ہے، جس میں کاریک ممالک کو پاکستان کی ویلیو چینز میں شامل ہونے اور عالمی منڈی تک رسائی حاصل کرنے کی دعوت دی گئی۔
وفاقی وزیر نے توانائی کو خطے کی ترقی کی "ریڑھ کی ہڈی” قرار دیتے ہوئے بتایا کہ کاسا-100جیسے منصوبے پاکستان، افغانستان، کرغزستان، اور تاجکستان کو جوڑ رہے ہیں۔انہوں نے کاریک گرین انرجی کوریڈور کے قیام کی تجویز دی تاکہ شمالی توانائی پیدا کرنے والے ممالک کو جنوبی صارفین سے جوڑا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل معیشت کی اہمیت اب تجارت جتنی ہی ہو چکی ہے۔ای-پاکستان کے تحت،سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے،فری لانسرز نے 2024 میں 1 ارب ڈالر سے زائد کی آمدنی حاصل کی،ریگولیٹری سینڈ باکس اور اسٹارٹ اپ انوویشن کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کارک ڈیجیٹل ٹریڈ کوریڈور کی تجویز بھی دی، جو اسمارٹ لاجسٹکس، ای-کسٹمز، اور ڈیجیٹل سرٹیفیکیشن پر مبنی ہو گا۔انہوں نے کہا کہ خطے میں اعتماد سازی کا عمل تعلیم اور عوامی سطح پر روابط سے شروع ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کے معیارات کو ہم آہنگ کیا جائے،طلبہ اور اساتذہ کے تبادلے کو فروغ دیا جائے،پالیسی سازی میں تحقیق کا کردار بڑھایا جائے۔
احسن اقبال نے تمام شریک ممالک، اداروں اور پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ محض منصوبوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ عملدرآمد، ہم آہنگی، اور مشترکہ قیادت کو ترجیح دیں۔
انہوں نے کہا کہ آئیے ایسا کاریک خطہ بنائیں جو صرف اشیاء اور خدمات نہیں بلکہ خواب، مواقع اور مستقبل کو آپس میں جوڑتا ہو۔پاکستان کا عزم دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کاریک وژن 2030 سے مکمل طور پر وابستہ ہے اور خطے میں معاشی ترقی، پائیداری، اور روابط کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر نے پاکستان میں احسن اقبال پیدا کیے کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔