Jang News:
2026-07-24@09:00:33 GMT

مضبوط دفاع کے لیے مضبوط معیشت بھی ضروری ہے: احسن اقبال

اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT

مضبوط دفاع کے لیے مضبوط معیشت بھی ضروری ہے: احسن اقبال

---فائل فوٹو 

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ اگر ہم 10 مئی کی کامیابی کو برقرار رکھنا ہے تو مضبوط معیشت کھڑی کرنا بھی ضروری ہے، مضبوط دفاع کے لیے مضبوط معیشت بھی ضروری ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بار میں یومِ تکبیر کی تقریب سے خطاب کے دوران احسن اقبال نے کہا کہ مئی کا مہینہ پاکستان کے لیے قابل فخر ہے۔ 28 مئی کو جہاں کھڑے تھے، 10 مئی کو بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جاتا ہے، آنے والی تمام حکومتوں نے اس پروگرام کو آگے بڑھایا، نواز شریف نے بین الاقوامی دباؤ اور لالچ کی پیشکش کو ٹھکرا کر دھماکے کیے، پاکستان سے کوئی اس کی ایٹمی صلاحیت کو چھین نہیں سکتا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم نے اڑان پاکستان کا منصوبہ بنایا ہے، دفاع میں ٹیکنالوجی کا اہم عنصر شامل ہوچکا ہے، ہماری نسل نے تختی سے فائیو جی کاسفر دیکھا ہے، آج پرائمری اسکولوں میں ٹیبلیٹس پہنچ چکے ہیں، ڈیجیٹل ریوولوشن آنے والے وقت میں مزید تبدیلیاں دکھائے گی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 2017ء میں نواز شریف کو نااہل کرنے کے فیصلے نے ملک کو سیاسی بحران کی طرف دھکیلا۔

ان کا پاک بھارت حالیہ کشیدگی سے متعلق کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف دس مئی کی کامیابی میں بھی ٹیکنالوجی کا اہم کردار تھا، ایک وقت تھا کہ ہم سائیکل تک نہیں بناتے تھے اور آج ہم نے ایف 17 تھنڈر بنا رہے ہیں، وہ ممالک جو ہم سے بہت پیچھے تھے وہ برآمدات میں ہم سے بہت آگے نکل گئے، پاکستان 1999ء تک جنوبی ایشیا کی پہلی بڑی طاقت تھی جو آج چوتھی طاقت ہے، اقتصادی پالیسیوں کے ساتھ موافق ماحول نہیں ملتا تو پالیسیاں فیل ہو جاتی ہیں۔

احسن اقبال نے کہا ہے کہ یہ صرف ماضی کی کامیابی کا جشن ہی نہیں بلکہ مستقبل کے لیے یوم عزم بھی ہے، پاکستان کی فضائیہ نے بھارت کے 3 رافل سمیت چھ جہاز گرا کر اپنی برتری ثابت کی، جس جدید ترین ٹیکنالوجی پر بھارت کو گھمنڈ تھا اسے پاکستانی شاہینوں نے مٹی کا ڈھیر بنا دیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت نے 10مئی کی صبح جارحیت کی تو بہادر افواج اور فضائیہ نےکرارا اور بھرپور جواب دیا، بھارت کی چیخیں واشنگٹن تک پہنچیں اور سیزفائر کی درخواست کی جسے ہم نے قبول کیا، ہم امن کے خواہاں ہیں، جنگ مسلط کی جائے گی تو بھرپور جواب دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ احسن اقبال کے لیے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم