ریاستی ستون نے پاکستان میں مصنوعی بحران پیدا کیے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں مصنوعی بحران ریاستی ستون نے پیدا کیے، ملک کے سیاسی بحران کبھی اسٹیبلشمنٹ اور کبھی عدلیہ کی جانب سے پیدا کیے گئے۔اسلام آباد ہائی کورٹ بار میں یوم تکبیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 2017 سے عدلیہ کو سیاست میں ملوث کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، یہی بات 26 آئینی ترمیم کی وجہ بنی۔احسن اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایسے فیصلے کیے جو سپریم کورٹ کو ہی درست کرنے پڑے، پاکستان میں بحران مصنوعی تھا جو ریاست کے کسی ایک ستون نے پیدا کیے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے سیاسی بحران کبھی اسٹیبلشمنٹ اور کبھی عدلیہ کی جانب سے پیدا کیے گئے، آج اس بات پر سب متفق ہیں کہ ملک کو استحکام کی طرف لے کر جائیں گے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کہہ چکے ہیں کہ وہ خود کو سیاست سے الگ رکھتے ہیں، عدلیہ کا کندھا بھی کسی سیاسی جنگ کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان میں احسن اقبال پیدا کیے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔