تاریخ میں تبدیلی کی خبریں بے بنیاد، بجٹ 10 جون کو ہی پیش کرینگے: سیکرٹری خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
وفاقی سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں ردو بدل کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ 26-2025 کا بجٹ 10 جون کو ہی پیش کریں گے۔ذرائع کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ عید کی وجہ سے 7 اور 8 جون کو عام تعطیل ہوں گی، لہٰذا عید کے تیسرے دن 9 جون کو ورکنگ ڈے کا اعلان کرنا پڑے گا۔ذرائع کا کہنا تھا عید کے تیسرے دن 9 جون کو قومی اقتصادی کونسل اور اکنامک سروے جاری کرنےکا شیڈول ہے، ایک ہی دن این ای سی اور اکنامک سروے جاری کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس اور بجٹ پیش کرنے میں روایتی طور پر 2 دن کا وقفہ رکھا جاتا ہے، حکومت وفاقی بجٹ پیش کرنے کے تاریخ میں دو دن کی توسیع کر سکتی ہے۔تاہم اب وفاقی سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال کا کہنا ہے کہ قومی اقصادی کونسل کے اجلاس کی تاریخ میں ردوبدل کیا جاسکتا ہے لیکن سالانہ بجٹ 10 جون کو ہی پیش کیا جائے گا، نئے مالی سال کے بجٹ کو آئی ایم ایف کی مشاورت سے حتمی شکل دی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔