پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں 27 مئی سے جاری بارشوں اور تیز آندھی کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 8 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہو چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پی ڈی ایم اے نے خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں 27 مئی سے جاری بارشوں اور تیز آندھی کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 8 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 5 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 10 مرد، 5 خواتین اور 6 بچے شامل ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بارش اور آندھی کے باعث مجموعی طور پر 25 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے 24 کو جزوی اور ایک مکمل منہدم ہوا۔ حادثات صوبے کے مختلف اضلاع مردان، صوابی، پشاور، شانگلہ، سوات، تورغر، مہمند، مانسہرہ اور ہری پور میں پیش آئے۔

پی ڈی ایم اے نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ 31 مئی تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کو پہلے ہی الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات کی ہدایت کی جا چکی ہے۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ وہ تمام ضلعی انتظامیہ، متعلقہ اداروں اور امدادی تنظیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا میں پی ڈی ایم اے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن