خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں 27 مئی سے جاری بارشوں اور تیز آندھی کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 8 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہو چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پی ڈی ایم اے نے خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں 27 مئی سے جاری بارشوں اور تیز آندھی کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 8 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 5 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 10 مرد، 5 خواتین اور 6 بچے شامل ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بارش اور آندھی کے باعث مجموعی طور پر 25 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے 24 کو جزوی اور ایک مکمل منہدم ہوا۔ حادثات صوبے کے مختلف اضلاع مردان، صوابی، پشاور، شانگلہ، سوات، تورغر، مہمند، مانسہرہ اور ہری پور میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ 31 مئی تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کو پہلے ہی الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات کی ہدایت کی جا چکی ہے۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ وہ تمام ضلعی انتظامیہ، متعلقہ اداروں اور امدادی تنظیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا میں پی ڈی ایم اے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔