UrduPoint:
2026-06-03@07:24:11 GMT

پاکستان: کرپٹو کرنسیوں کا استعمال غیر قانونی

اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT

پاکستان: کرپٹو کرنسیوں کا استعمال غیر قانونی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 30 مئی 2025ء) پاکستان کے وفاقی سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال نے جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کو بتایا کہ 'کرپٹو کونسل کا قیام وزیراعظم کے ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے عمل میں لایا گیا‘، تاہم پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار پر تاحال پابندی برقرار ہے۔

پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا فروغ، زر مبادلہ پر کیسے اثرات مرتب ہوں گے؟

سیکرٹری خزانہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب پاکستان کرپٹو کونسل کے سربراہ بلال بن ثاقب نے رواں ہفتے کہا تھا کہ پاکستانی حکومت کی زیر قیادت بٹ کوائن کو قومی ذخائر کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

امریکہ میں لاس ویگاس میں بٹ کوائن 2025 کے نام سے تقریب میں خطاب میں بلال بن ثاقب نے کہا تھا، ’’پاکستان اپنی حکومت کی زیر قیادت بٹ کوائن اسٹریٹجک ریزرو قائم کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

‘‘ اس تقریب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور صدر ٹرمپ کے دو صاحبزادوں نے بھی خطاب کیا تھا۔

پاکستان میں کرپٹو کرنسی، کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں

انہوں نے مزید کہا تھا،’’یہ نیشنل بٹ کوائن والٹ، قیاس آرائیوں کے لیے نہیں ہے۔

ہمارے پاس یہ بٹ کوائنز ہوں گے اور ہم انہیں کبھی فروخت نہیں کریں گے۔‘‘

بلال بن ثاقب نے بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیےدو ہزار میگاواٹ بجلی‘ مختص کرنے کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’ہم تمام مائنرز کو پاکستان مدعو کرنا چاہتے ہیں۔ تمام بنیادی ڈھانچے سے متعلق افراد پاکستان آئیں اور ہمارے ساتھ مل کرتعمیر کریں۔

‘‘ کرپٹو کرنسی کے حوالے سے تحفظات

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں شرکاء نے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے حکومت کی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے پاکستان میں کریپٹو کرنسیوں کے فروغ کے حوالے سے حکومت کے متضاد پالیسی بیانات کا معاملہ اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ ’’اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے حال ہی میں باہر آیا، ایسا لگتا ہے کہ کرپٹو کرنسیوں کے لیے کوئی قانونی فریم ورک موجود نہیں ہے۔‘‘

شرمیلا فاروقی نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کرپٹو کرنسی کو منی لانڈرنگ سے کیسے بچائے گا، جبکہ کرپٹو کرنسی کی کوئی ریگولیشنز موجود نہیں ہے۔

ایک دیگر رکن مرزا اختیار بیگ نے کہا، ’’آپ کہہ رہے ہیں کہ کرپٹو پر پابندی ہے لیکن لوگ سرمایہ کاری کر رہے ہیں، آپ نے کرپٹو کی پروجیکشن ایسی کی ہے کہ لوگ اس طرف آ رہے ہیں۔ اگر کل کو کرپٹو کرنسی قبول نہیں کی جاتی تو لوگوں کا پیسہ تو ڈوب جائے گا۔‘‘

'یہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے'

وفاقی سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال نے بتایا کہ کرپٹو کونسل میں ابتدائی کام ہو رہا ہے، کرپٹو کرنسی کے لیے باقاعدہ ریگولیشنز کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے کرپٹو کوائنز میں سرمایہ کاری پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی حکومت اسے مزید آگے لے جانے کا فیصلہ کرتی ہے، ہم تجویز کریں گے کہ پہلے اس کے لیے ایک جامع قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا جائے،ابھی تک، ایسا کوئی فریم ورک نہیں تھا۔

اجلاس میں شریک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام نے بتایا کہ ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق نیشنل ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے، کرپٹو کونسل کو تجاویز دی گئی ہیں کہ کرپٹو کرنسی کے لیے لیگل فریم ورک درکار ہو گا۔

ان کا م‍زید کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی پر مرکزی بینک کی پالیسی میں ابھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں کرپٹو کرنسی کا چلن ہے لیکن صرف ایل سیلواڈور نے بٹ کوائن کو قانونی قرار دیا ہے۔

ج ا ⁄ ص ز (خبر رساں ادارے)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان میں کرپٹو کرنسی کرپٹو کرنسی کے کرپٹو کونسل بٹ کوائن کے لیے نے کہا

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان