UrduPoint:
2026-07-24@10:13:17 GMT

پاکستان: کرپٹو کرنسیوں کا استعمال غیر قانونی

اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT

پاکستان: کرپٹو کرنسیوں کا استعمال غیر قانونی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 30 مئی 2025ء) پاکستان کے وفاقی سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال نے جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کو بتایا کہ 'کرپٹو کونسل کا قیام وزیراعظم کے ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے عمل میں لایا گیا‘، تاہم پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار پر تاحال پابندی برقرار ہے۔

پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا فروغ، زر مبادلہ پر کیسے اثرات مرتب ہوں گے؟

سیکرٹری خزانہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب پاکستان کرپٹو کونسل کے سربراہ بلال بن ثاقب نے رواں ہفتے کہا تھا کہ پاکستانی حکومت کی زیر قیادت بٹ کوائن کو قومی ذخائر کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

امریکہ میں لاس ویگاس میں بٹ کوائن 2025 کے نام سے تقریب میں خطاب میں بلال بن ثاقب نے کہا تھا، ’’پاکستان اپنی حکومت کی زیر قیادت بٹ کوائن اسٹریٹجک ریزرو قائم کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

‘‘ اس تقریب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور صدر ٹرمپ کے دو صاحبزادوں نے بھی خطاب کیا تھا۔

پاکستان میں کرپٹو کرنسی، کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں

انہوں نے مزید کہا تھا،’’یہ نیشنل بٹ کوائن والٹ، قیاس آرائیوں کے لیے نہیں ہے۔

ہمارے پاس یہ بٹ کوائنز ہوں گے اور ہم انہیں کبھی فروخت نہیں کریں گے۔‘‘

بلال بن ثاقب نے بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیےدو ہزار میگاواٹ بجلی‘ مختص کرنے کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’ہم تمام مائنرز کو پاکستان مدعو کرنا چاہتے ہیں۔ تمام بنیادی ڈھانچے سے متعلق افراد پاکستان آئیں اور ہمارے ساتھ مل کرتعمیر کریں۔

‘‘ کرپٹو کرنسی کے حوالے سے تحفظات

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں شرکاء نے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے حکومت کی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے پاکستان میں کریپٹو کرنسیوں کے فروغ کے حوالے سے حکومت کے متضاد پالیسی بیانات کا معاملہ اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ ’’اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے حال ہی میں باہر آیا، ایسا لگتا ہے کہ کرپٹو کرنسیوں کے لیے کوئی قانونی فریم ورک موجود نہیں ہے۔‘‘

شرمیلا فاروقی نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کرپٹو کرنسی کو منی لانڈرنگ سے کیسے بچائے گا، جبکہ کرپٹو کرنسی کی کوئی ریگولیشنز موجود نہیں ہے۔

ایک دیگر رکن مرزا اختیار بیگ نے کہا، ’’آپ کہہ رہے ہیں کہ کرپٹو پر پابندی ہے لیکن لوگ سرمایہ کاری کر رہے ہیں، آپ نے کرپٹو کی پروجیکشن ایسی کی ہے کہ لوگ اس طرف آ رہے ہیں۔ اگر کل کو کرپٹو کرنسی قبول نہیں کی جاتی تو لوگوں کا پیسہ تو ڈوب جائے گا۔‘‘

'یہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے'

وفاقی سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال نے بتایا کہ کرپٹو کونسل میں ابتدائی کام ہو رہا ہے، کرپٹو کرنسی کے لیے باقاعدہ ریگولیشنز کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے کرپٹو کوائنز میں سرمایہ کاری پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی حکومت اسے مزید آگے لے جانے کا فیصلہ کرتی ہے، ہم تجویز کریں گے کہ پہلے اس کے لیے ایک جامع قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا جائے،ابھی تک، ایسا کوئی فریم ورک نہیں تھا۔

اجلاس میں شریک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام نے بتایا کہ ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق نیشنل ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے، کرپٹو کونسل کو تجاویز دی گئی ہیں کہ کرپٹو کرنسی کے لیے لیگل فریم ورک درکار ہو گا۔

ان کا م‍زید کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی پر مرکزی بینک کی پالیسی میں ابھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں کرپٹو کرنسی کا چلن ہے لیکن صرف ایل سیلواڈور نے بٹ کوائن کو قانونی قرار دیا ہے۔

ج ا ⁄ ص ز (خبر رساں ادارے)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان میں کرپٹو کرنسی کرپٹو کرنسی کے کرپٹو کونسل بٹ کوائن کے لیے نے کہا

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ