غیرملکی طلباء کے ویزہ منسوخ کرنے سے امریکہ خود کو نقصان پہنچا رہا ہے،چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
بیجنگ :جب سے موجودہ امریکی انتظامیہ نے اقتدار سنبھالا ہے، بین الاقوامی طالب علموں، خاص طور پر چینی طالب علموں کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ اس وقت امریکہ چین کے تزویراتی مسابقت کے بارے میں سخت فکرمند ہے، اور کچھ امریکی سیاست دان قومی سلامتی کے بہانے بین الاقوامی طالب علموں کو چین کے خلاف جیو پولیٹیکل گیمز کے لئے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔نہ صرف چین بلکہ دوسرے ممالک کے طالب علم بھی امریکی حکومت کی “تعلیمی ناکہ بندی” کانشانہ بنے۔ سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے طلبا نے امریکی حکومت کی جانب سے ان کے جائز حقوق اور مفادات کو نقصان پہنچانے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی، میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سمیت امریکہ کی دیگر بڑی یونیورسٹیوں نے یکے بعد دیگرے امریکی حکومت کے خلاف مقدمات دائر کیے ہیں۔تعلیم کے نقطہ نظر سے ، امریکی حکومت کا طرز عمل تعلیم کے میدان میں بین الاقوامی تعاون کو متاثر کرے گا ، امریکی ٹیلنٹ پول کو کم کرے گا ، اور اپنی طویل مدتی جدت طرازی کی صلاحیت کو کمزور کرے گا۔ یہ عمل امریکی جامعات کے مالی وسائل کو کم کرے گا جس کے نتیجے میں امریکی تعلیمی صنعت کو نقصان پہنچے گا.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بین الاقوامی طالب علموں امریکی حکومت کو نقصان کے خلاف کرے گا
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔