سندھ طاس معاہدے کی منسوخی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ منسوخی بلاجواز اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جارحانہ اقدام کا نوٹس لے۔
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ہانگ کانگ میں عالمی ثالِثی تنظیم کے افتتاحی کنونشن میں شرکت کی جہاں انہوں نے بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کے قیام سے متعلق کنونشن پر دستخط کیے۔
تقریب سے خطاب کے دوران اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کی کوششیں جنوبی ایشیا میں آبی امن کے لیے خطرہ ہیں اور یہ عمل عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
صدر زرداری کو علاج کیلئے دبئی جانے سے کیوں روکا گیا تھا؟ فرحت اللہ بابر کی کتاب میں انکشافات
انہوں نےمزید کہا کہ پاکستان اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر بین الاقوامی فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔