Daily Ausaf:
2026-07-24@07:59:09 GMT

تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے متعلق اہم خبر

اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT

: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے دوران بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے متعلق اہم خبر آگئی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان بجٹ پر ورچوئل مذاکرات جاری ہے ، ذرائع نے بتایا تنخواہ دارطبقےکو ٹیکس میں ریلیف کیلئے آئی ایم ایف کومنانے کی کوششیں جاری ہیں، آئی ایم ایف کا اعتراض ہے تنخواہ دارطبقے کوریلیف کےبعد ٹیکس ہدف کیسے حاصل ہوگا؟

وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا تھا بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس ہدف حاصل کرنےکیلئے اقدامات پرآئی ایم ایف کوبریفنگ دی۔آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا سیلزٹیکس کی تمام رعایت اورچھوٹ ختم کردی جائیں اور سولرپینل کی امپورٹ پربھی سیلز ٹیکس عائد کیا جائے۔

امپورٹڈ تمام اشیا پرڈیڑھ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لگایا جائے ساتھ ہی ریئل اسٹیٹ سے وابستہ بلڈرزاور ڈیولپرز کو رجسٹرڈ کیا جائے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے فیصلے پر جزوی اتفاق ہوا ہےذرائع کا کہنا ہے صرف صنعتوں کے خام مال پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ دی جاسکتی ہے، مذاکرات کے مزید دور بھی ہوں گے، جن میں بات چیت کاامکان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان