وفاقی حکومت کا وفد اب تک 4 بار افغانستان گیا لیکن کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے. بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
پشاور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 30 مئی ۔2025 )مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا وفد اب تک 4 بار افغانستان جا چکا ہے لیکن اب تک کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے پشاور پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے وفاق کے ساتھ کئی بار رابطے کئے گئے.
(جاری ہے)
بیرسٹر سیف نے کہا کہ وفاقی حکومت کا وفد اب تک 4 بار افغانستان گیا ہے لیکن کوئی مثبت نتائج اب تک سامنے نہیں آئے ہے انہوں نے بلاول بھٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا بھر کے دورے کئے لیکن آدھے گھنٹے کے فاصلے پر واقع ملک افغانستان کا کوئی دورہ نہیں کیا حکومت منگولیا اور دیگر ممالک کو تو اہمیت دے رہی ہے لیکن افغانستان کو نہیں.
ڈرون حملے سے متعلق سوال پر مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ جنگی صورتحال ہے، دہشت گردی عروج پر ہے ایسے میں کچھ واقعات غلطی سے پیش آ جاتے ہیں تاہم دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے کام کر رہے ہیں حکومت یا سٹبلیشمنٹ کے ساتھ مذاکرات پر بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ مذاکرات اور عمران خان کی رہائی کے لیے مختلف طریقہ کار کو اپنایا جارہا ہے پارٹی لیڈرشپ کے کئی اراکین پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جبکہ عدالتوں سے بانی کی رہائی کے لئے دائر درخواستوں کو سننے کی استدعا کی ہے پی ٹی آئی تحریک کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جاری احتجاجی مہم ختم نہیں ہوئی ہے اضلاع اور صوبائی سطح پر احتجاج ریکارڈ کئے جائیں گے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت بیرسٹر سیف کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔