یہ ناخن جتنی مچھلی ہاتھی سے بھی زیادہ اونچی آواز پیدا کرسکتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
دنیا میں ایک ایسی چھوٹی مچھلی پائی جاتی ہے جو ہاتھیوں کی آواز سے بھی زیادہ آواز پیدا کرسکتی ہے۔
اس مچھلی کا نام ڈینیونیلا سیریبرم ہے جو صرف 12 ملی میٹر لمبی ہوتی ہے یعنی سائز میں ایک ناخن کے برابر۔ یہ اتنی چھوٹی مچھلی حیرت انگیز طور پر 140 ڈیسیبل سے زیادہ کی آواز پیدا کر سکتی ہے۔ یہ آواز ایک ہاتھی کی آواز سے بھی زیادہ بلند ہے جو عام طور پر 100 سے 110 ڈیسی بیل کے درمیان ہوتی ہے ۔
آواز پیدا کرنے کا طریقہ
ڈینیونیلا سیریبرم کی نر مچھلیوں کے پاس ایک منفرد صوتی نظام ہوتا ہے جس میں شامل ہیں ڈرم کارٹلیج، خصوصی پسلی اور تھکن سے مزاحم پٹھے۔ اس نظام میں ڈرم کارٹلیج 2000 گنا کششِ ثقل کی قوت سے سوئم بلیڈر سے ٹکراتا ہے جس سے ایک تیز اور بلند آواز پیدا ہوتی ہے۔
آواز کی شدت
یہ مچھلی 140 ڈیسی بیل سے زیادہ کی آواز پیدا کرتی ہے، جو ایک عام چھوٹے جیٹ انجن کے ٹیک آف کے وقت کی آواز کے برابر ہے۔
سائنسی اہمیت
ڈینیونیلا سیریبرم نہ صرف اپنی آواز کی وجہ سے بلکہ اپنے شفاف جسم اور سب سے چھوٹے دماغ کی وجہ سے بھی محققین کیلئے دلچسپی کا باعث ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آواز پیدا کی آواز سے بھی
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔