لاہور سمیت پنجاب بھر کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی بند
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
علی ساہی: لاہور سمیت پنجاب بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جہاں گنجائش سے 70 فیصد زائد قیدی موجود ہیں, مجموعی طور پر صوبے کی 45 جیلوں میں ساڑھے 37 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے، لیکن ان میں اس وقت 66 ہزار 700 سے زائد قیدی رکھے گئے ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق لاہور کی کیمپ جیل میں 2 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے، تاہم یہاں 6 ہزار 300 سے زائد قیدی رکھے گئے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں 2 ہزار 300 قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں 3 ہزار 500 سے زائد قیدی موجود ہیں، جبکہ راولپنڈی کی اڈالہ جیل میں 2 ہزار 100 کی گنجائش کے مقابلے میں 7 ہزار 100 قیدی رکھے گئے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی کے غیر تدریسی عملے کابطور اسسٹنٹ پروفیسر تعیناتی منسوخی کیخلاف احتجاج کا اعلان
گرمی اور حبس کے موسم میں قیدیوں کے لیے بیرکس میں سانس لینا بھی دشوار ہو چکا ہے، جبکہ صرف 9 چھوٹی جیلیں ایسی ہیں جہاں گنجائش سے کم قیدی موجود ہیں۔
جیل حکام کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث جیلوں کے انتظام میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ لاہور میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر نئی جیل کی تعمیر کی تجویز کئی سالوں سے زیر التوا ہے، تاہم اس پر تاحال کوئی عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔
اسرائیل نے حضرت ابراہیم کے مقبرے اور مسجدِ ابراہیمی کا کنٹرول سنبھال لیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: قیدیوں کی کی گنجائش
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔