(اپنا میٹر اپنی ریڈنگ) اووربلنگ کے خاتمے کیلئے حکومت کی نئی اسکیم کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
صارفین کو اپنی بلنگ کا اختیار دے رہے ہیں، حکومت کا بجلی سلیبز تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں
آئی پی پی کے معاہدے ختم کرکے عوام کو 3400 ارب روپے کا فائدہ دیا، وفاقی وزیر توانائی
حکومت نے بجلی کی اوور بلنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ’’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘‘ اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔صارفین اپنے موبائل سے میٹر کی ریڈنگ کر کے ایپ پر بھیج سکیں گے۔وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ سبسڈی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے صارفین سے جوڑ رہے ہیں۔ حکومت کا بجلی کے سلیبز کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بھی ڈیٹا درست کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی پی پی کے معاہدے ختم کرکے عوام کو 3400 ارب روپے کا فائدہ دیا۔ بجلی سستی کرنے کا سفر شروع کر چکے ہیں۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پاور) کا اجلاس ہوا، جس میں رکن رانا محمد حیات نے سوال اٹھایا کہ کیا آئندہ مالی سال میں بجلی ٹیرف میں مزید کمی ہو گی؟، جس پر چیئرمین نیپرا نے جواب دیا کہ فی الحال بجلی کا ریٹ اتنا ہی رہنے کا امکان ہے۔رانا محمد حیات نے کہا کہ صنعتی شعبے کو 30 فیصد ریلیف دیا گیا ہے جب کہ زرعی شعبے کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ، جس پر سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ صنعتی شعبے کو ریلیف کراس سبسڈی ختم کرنے کے باعث حاصل ہوا ۔ بجلی شعبے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔دوران اجلاس راجا قمر الالسلام نے کہا کہ اجلاس پاور کمیٹی کا ہے مگر مجھے پیٹرولیم ڈویژن کے منٹس ملے ہیں۔جنید اکبر نے کہا کہ میں نے 4 ماہ قبل آفر کی تھی کہ میں کنڈا اتروانے کے لیے خود جاؤں گا۔ ہم تعاون کرتے ہیں مگر ان سے لائن لاسز کم نہیں ہو رہے جب کہ صارف کو آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی نہیں ملتی۔ کام یہ نہیں کرتے اور گالیاں ہم کھاتے ہیں۔سی ای او پیسکو نے کمیٹی میں کہا کہ ان کے علاقے میں ان کے تعاون سے بہت بہتری آئی ہے، آئندہ ماہ سے مزید بہتری ہوگی۔وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ ریلیف ماہانہ بنیاد پر دیا جائے۔ متعلقہ ایس ڈی او کی ڈیوٹی لگائیں اور ریلیف ماہانہ بنیادوں پر فراہم کریں۔ سبسڈی کے اصل حق داروں کو ریلیف دے رہے ہیں۔اویس لغاری نے اس موقع پر بتایا کہ 100 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے 56 فیصد بجلی سستی کی ہے۔ 101 سے 200 تک استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 48 فیصد بجلی سستی کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ اوور بلنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے وزیر اعظم جلد اسکیم کا اعلان کریں گے۔ صارفین کو اپنی بلنگ کا اختیار دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں ’’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘‘ کے نام سے اسکیم کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: نے کہا کہ کا اعلان رہے ہیں کرنے کا بلنگ کا کے لیے
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل