اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 مئی2025ء) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے وزارت میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی ) کے ڈائریکٹر جنرل نے ملاقات کی جس میں وزارت اور ایس آئی ایف سی کے مابین باہمی تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے اور قومی معیشت کی ترقی میں اس شعبے کا کردار مضبوط بنایا جا سکے۔

اس موقع کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے اور شعبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے سے متعلق کئی اہم اقدامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کسانوں کے بڑھتے ہوئے زرعی اخراجات اور موسمیاتی اثرات سے درپیش مسائل سے نمٹنے کے لئے ایک جامع ریلیف پیکیج زیر غور ہے۔

(جاری ہے)

اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایک شفاف قیمتوں کا نظام وضع کیا جائے گا تاکہ کسانوں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ مل سکے اور انہیں معاشی استحکام فراہم کیا جا سکے۔

کپاس پر جنرل سیلز ٹیکس کے مسئلے پر بھی غور کیا گیا اور ٹیکس میں کمی یا خاتمے کی تجاویز زیرِ غور ہیں تاکہ کپاس کے کاشتکاروں کو سہولت دی جا سکے اور پیداوار میں اضافہ ہو۔وزارت اور ایس آئی ایف سی دونوں نے مویشی پالنے کے شعبے کو فروغ دینے کے لئے عزم کا اظہار کیا جس کے لئے بہتر صحت کی سہولیات، افزائش نسل کی خدمات اور ویلیو چین کی ترقی جیسے ہدفی اقدامات کئے جائیں گے۔

اس کے علاوہ آئندہ وفاقی بجٹ میں کسانوں کے نقصانات کے ازالے اور مالی معاونت کے لئے ایک خصوصی "کسان پیکیج" شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر نے بین الاداراتی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں ایس آئی ایف سی کے کردار کو سراہا اور پالیسی اصلاحات کے نفاذ میں وزارت کی مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ میجر جنرل اسد الرحمٰن چیمہ نے زرعی شعبے میں سٹریٹجک سرمایہ کاری کو سہولت دینے اور اقدامات کے بروقت نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے ایس آئی ایف سی کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی جہاں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ان پالیسی اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دونوں ادارے قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے تاکہ پاکستان کے کسانوں کو حقیقی فوائد پہنچ سکیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایس ا ئی ایف سی کسانوں کو کیا گیا جا سکے کے لئے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟

وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو سہارا دینے کے لیے پراپرٹی ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق فائلرز کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس بوجھ کم کیے جانے کی تجویز ہے جبکہ نان فائلرز کو کسی قسم کی رعایت دیے جانے کا امکان نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟

ذرائع کے مطابق حکومت ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے مختلف ٹیکس اصلاحات پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ اقدامات کا مقصد تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ اس سلسلے میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد مختلف ٹرانزیکشن ٹیکسز میں کمی کی تجاویز زیر غور ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پراپرٹی ٹیکسز میں مجوزہ تبدیلیوں سے متعلق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی آگاہ کردیا ہے۔ حکام کے مطابق ٹیکسوں میں کمی سے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا جس سے سرمایہ کاری کا رجحان بڑھے گا اور مجموعی طور پر حکومتی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

ایف بی آر کے حکام کے مطابق پراپرٹی مارکیٹ میں سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے گزشتہ 3 ماہ کے دوران جائیدادوں کے ویلیو ایشن ریٹس میں 30 سے 35 فیصد تک کمی کی جا چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد خرید و فروخت کے عمل کو تیز کرنا اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خریداری پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کو موجودہ 1.5 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسی طرح پراپرٹی فروخت کرنے پر لاگو ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 4.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد تک لانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور لین دین کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید پڑھیے: آئندہ مالی سال کا بجٹ: کس کو ریلیف ملے گا اور کس پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھے گا؟

دوسری جانب نان فائلرز کے لیے کسی قسم کی ٹیکس رعایت تجویز نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق جائیداد کی خرید و فروخت پر نان فائلرز کے لیے عائد مجموعی ٹیکس بوجھ بدستور برقرار رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت انہیں تقریباً 10.5 فیصد تک ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ریلیف صرف ٹیکس نیٹ میں شامل افراد تک محدود رکھا جائے گا تاکہ مزید شہریوں کو فائلر بننے کی ترغیب دی جا سکے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران پراپرٹی سیکٹر سے متعلق مختلف ٹیکسوں کی وصولیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس عرصے میں پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولیاں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 29 فیصد کم رہیں جبکہ 5 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی میں 68 فیصد اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 37A کے تحت وصول کیے جانے والے 10 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس میں 64 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح شق 7E کے تحت ڈیمڈ انکم ٹیکس کی وصولیوں میں بھی 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سست روی کی عکاسی کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026: آئی ایم ایف کا جنرل سیلز ٹیکس بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا مطالبہ

ریئل اسٹیٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن کے صدر احسن ملک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو دوبارہ فعال بنانے کا وژن ملکی معیشت کے لیے مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر 45 سے 55 مختلف صنعتیں وابستہ ہیں لہٰذا اس سیکٹر میں سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ 4 فیصد سے زائد معاشی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو مراعات دینا ناگزیر ہے، کیونکہ اس شعبے کی بحالی سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ معیشت کے دیگر شعبوں کو بھی تقویت ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے: حکومت بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کررہی ہے، رانا ثناءاللہ

ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق پراپرٹی سیکٹر کے لیے مجوزہ ٹیکس ریلیف اور دیگر اصلاحات سے متعلق تجاویز پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو اعتماد میں لیا جا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تجاویز پر حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا جس کے بعد حکومت پراپرٹی ٹیکس نظام میں ممکنہ تبدیلیوں کا باضابطہ اعلان کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجٹ میں ریلف پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ریلیف ٹیکس ریلیف وفاقی بجٹ 2026-27

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ