Express News:
2026-07-24@03:49:03 GMT

سولر پینلز پر ٹیکس کی تجویز

اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT

ہم وہ لوگ ہیں جو اندھیرے کے عادی تھے، سرشام گھروں میں دیے جلائے جاتے تھے۔ پھر زمانے نے ترقی کی، انگریزوں نے مٹی کے تیل کے کنستر لا لا کر بیچے اور ہم خریدتے چلے گئے۔ اس کے لیے انگلینڈ کی بنی ہوئی لالٹینیں خریدتے رہے۔ پھر بجلی آئی، ہر طرف اس کی طلب پیدا ہوئی، عالمی بینک نے بڑے دو ڈیم بنا کردیے، کہا جلد ہی تیسرا بنا لینا پھر چوتھا اور پانچواں۔ سستی بجلی پیدا ہوگی، عوام کو کسانوں کو سستی ملے گی، کارخانے والوں کو بھی سستی ترین بجلی ملے گی۔ ان کی مصنوعات کا دنیا بھر میں راج ہوگا، لیکن پھر ایسا تو نہ ہوا البتہ بجلی بنانے والی کمپنیوں کا راج بڑھنے لگا اور بجلی مہنگی ہونے لگی۔ پھر لوڈ شیڈنگ بڑھنے لگی تو جنریٹرز کی گھڑ گھڑ سے جینا دوبھر ہونے لگا۔

اتنے میں دنیا نے ترقی کی ایک اور زقند بھری۔ سائنسدان سورج تک جا پہنچے، اپنا دکھڑا سنایا۔ سورج نے کہا مجھ سے روشنی مفت میں لے لو۔ اپنے اندھیروں کو خیرباد کہہ دو۔ سورج سے مفت بجلی لینے کا نام ’’ سولر انرجی سسٹم‘‘ رکھا گیا۔ یوں روشنی کی ایک نئی دنیا نے جنم لیا۔ جہاں کچھ چیزوں کے دام تھے لیکن سورج کی روشنی مفت اور عام تھی، اس کے ساتھ کئی پرزے بھی تھے۔

میری ناقص معلومات کے مطابق فوٹو وولٹیک سیل، ہائی برڈ انورٹرز، لیتھیم بیٹریز، مونو کرسٹیلائن پینلز وغیرہ۔ اب ان سب باتوں کو سورج سے روشنی لینے کے رازکی گرہیں بیرون ملک جدید ترقی یافتہ ممالک کھول رہے تھے۔ پاکستانی تاجر اس ضرورت کو محسوس کر رہے تھے، کیونکہ یہ سسٹم لوڈ شیڈنگ کے خلاف زبردست بغاوت تھی اور سورج کی طرف سے ایک پیغام تھا کہ اب واپڈا کے بلوں سے آزاد ہو جاؤ کیونکہ سورج تمہارا ہے، تمہارے ملک میں روز نکلتا ہے، خوب چمکتا ہے، روشنی بھی دیتا ہے، فصلیں بھی پکاتا ہے، آم بھی پکتے ہیں اور بہت کچھ۔

اب آئی ایم ایف نے کہہ دیا ہے کہ سولر انرجی پر ٹیکس لگایا جائے، اس کے درآمدی سامان پر ٹیکس لگایا جائے، یہ تاجر بیرون ملک جا کر وہ ٹیکنالوجی ساتھ لانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہم جدید دنیا کے ساتھ مل کر چل سکیں، کیا کیا ٹیکنالوجی آ رہی ہے، اسمارٹ انورٹرزکی۔ لیتھیم، فاسفیٹ کی، بی ایم ایس کی۔ مگر حکومتی پالیسی پرانی فائلوں میں گم ہے، سولر کے بیوپاری کنٹینرز منگواتے ہیں تو اس کے بعد کتنے جھمیلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ بالآخر ان کو کہنا پڑتا ہے میں تو سورج کو لے آیا تھا۔ مگر سرکار کو اندھیروں سے کام ہے۔

میں ایسے تاجروں کی کہانی سن چکا ہوں جو بیرون ملک سولرکی منڈیوں میں جا کر وہاں کے سولر نمائش گاہوں میں جا کر کمپنی سے بھاؤ تاؤ کرتے ہیں، انھیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان میں غریب ہیں، غریب کسان ہیں، ان کے لیے سستا پیکیج بنا کردو، پاکستان میں سورج خوب چمکتا ہے اور یوں ایک تاجر جو دل کا مریض بھی ہے لیکن پاکستانیوں کو سستے سولرزکی فراہمی کے لیے جان کو ہتھیلی پر لیے دیار غیر میں پھرتا ہے کہ میں غریب کسانوں کے دامن سورج کی روشنی سے بھردوں، اور جب اس روشنی سے فائدہ اٹھانے والی ٹیکنالوجی کو ڈبوں میں بند کرکے کنٹینرز میں لاد کر لاتا ہے تو بندرگاہ پرکہا جاتا ہے کہ بھائی! روشنی مفت بانٹ رہے ہو تو پھر ٹیکس ادا کرو۔

اب اور زیادہ ٹیکس دینا ہوگا، پھر وہ کہتا ہے بھائی! یہ سولر پینلز ہیں جوکہ سورج کی مفت کرنوں کو روشنی میں بدلنے کا بنیادی آلہ ہے اور یہ انورٹر ہے، اور یہ بیٹری ہے دھوپ جمع کرنے کا ڈبہ، تاکہ راتیں روشن کی جا سکیں۔ اور یہ چارجر،کنٹرولر ہے، اب آئی ایم ایف کہتا ہے۔

ان سب پر ٹیکس لگا دو تاکہ سورج کی مفت روشنی مہنگی ہو کر رہ جائے۔ سولر پینلز بیچنے کے علاوہ صنعتی ملکوں سے خرید کر لانے والے تاجر نے تو یہ چاہا کہ میرا ملک اندھیرے سے نکلے، بجلی کے بھاری بھرکم بلوں سے آزاد ہو۔ اب ان کو پریشان کرنا، جرمانے بھی عائد ہوتے ہیں، ایک بزنس مین نے بتایا ۔ اب کیا کہوں کل کو شاعر پر بھی جرمانہ ہوگا کہ اپنی غزل میں چاند کی چاندنی اس کی ٹھنڈک کو کیوں مفت میں کھینچ لائے ہو۔ یہ صرف سولر پر ٹیکس نہیں، روشنی پر قدغن ہے۔ بجلی کی پیداوار میں خود کفالت کی منزل کو گم کرنا ہے۔

کراچی کی بندرگاہ سے لے کر گوانگژو میں سولر پینلز کمپنیوں کی نمائش گاہ تک دل تھام کر جانے والا دل کا مریض تاجر، مگر عوام کو اندھیروں سے نکالنے کے جذبے سے سرشار تھا۔ جب ہر بار ڈالر ریٹ بڑھتا اس کی سانسیں گھٹتی تھیں۔ اس نے سولر پینلز کے ہاتھوں عوام کو سورج کا یہ پیغام دیا۔ اندھیرے دور کردو، کیوں کہ یہ سورج تمہارا ہے۔ لیکن اب اس پر ٹیکس لگے گا۔ اب یہ مہنگا سسٹم کون خریدے گا، یہ تاجر جو دنیا کی منڈیوں سے سولر سسٹم خرید کر لایا تھا اب بجٹ نے اس پر اندھیرا سایہ ڈال دیا ہے۔ ہمیں بجلی کی ضرورت تھی، جدید ٹیکنالوجی نے سورج کی مفت روشنی سے اندھیرا دور کرنے کا ہنر سکھا دیا تھا لیکن اب ٹیکس اس پر رکاوٹیں ڈال دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سولر پینلز سورج کی پر ٹیکس

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران