Daily Ausaf:
2026-06-03@06:18:35 GMT

نیت نہیں، نتیجہ دیکھو

اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی تیز رفتار ترقی نے جہاں دنیا کو ایک گلوبل ویلج میں تبدیل کر دیا ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ کئی چیلنجز بھی ابھرے ہیں۔ ان میں سے ایک سنگین مسئلہ گستاخانہ مواد کا پھیلائو ہے جو نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے بلکہ نوجوانوں کو بھی قانونی اور سماجی مسائل میں مبتلا کر رہا ہے۔ اس کالم کا مقصد نوجوانوں کو اس مسئلے سے آگاہ کرنا اور انہیں اس سے بچائو کے طریقوں سے روشناس کروانا ہے۔گستاخانہ مواد وہ مواد ہے جو کسی مذہب، مذہبی شخصیت یا عقیدہ کی توہین یا تذلیل کرتا ہے۔ یہ مواد مختلف شکلوں میں ہوسکتا ہےجیسے کہ تحریری مواد، تصاویر، ویڈیوز یا میمز وغیرہ۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پراس قسم کے موادکا پھیلائو تیزی سے بڑھ رہا ہے جو نوجوانوں کے لیےایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ گزشتہ چاربرسوں میں 23 ملزمان کو سزائے موت سنائی جاچکی ہےاور 500 کے قریب کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اس کے علاوہ، اس قسم کے مواد میں ملوث افراد کو سماجی سطح پر بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کی ذاتی اور پیشہ وارانہ زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں پر اس قسم کے مقدمات کا نفسیاتی دبائو بھی ہوتا ہےجو ان کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)نے گستاخانہ اور غیراخلاقی مواد پر 100,183 گستاخانہ یو آر ایل اور 844,008 فحش ویب سائٹس بلاک کی ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت نےسوشل میڈیا پلیٹ فارمزسےبھی گستاخانہ مواد ہٹانے کےلیے دبائو ڈالا ہے۔ حالیہ برسوں میں،وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)کی سائبر کرائم ونگ نے 400,000 سے زائد سوشل میڈیا اکائونٹس کو گستاخانہ مواد پھیلانے کے الزام میں بے نقاب کیا ہے جن میں سے 160 افراد طلباء یافارغ التحصیل ہیں۔ ان میں سے 140 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے 11کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بھی گستاخانہ مواد ہٹانے کے لئے دبائو ڈالا ہے۔
نوجوانوں کے لیےاس مسئلے سے بچائو کے لئے چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں۔ سب سے پہلے، انہیں مواد کی تصدیق کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ کسی بھی مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی حقیقت اورماخذ کی تصدیق کریں۔ اس کے علاوہ، انہیں قانونی آگاہی حاصل کرنی چاہیےتاکہ وہ انٹرنیٹ پر موجود قوانین سے آگاہ رہیں اور غیر ارادی طور پر کسی جرم کاارتکاب نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہیں مثبت موادکو فروغ دیناچاہیے اور سوشل میڈیا پر مثبت اور تعمیری مواد شیئر کرنا چاہیے جو معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دے۔ گزشتہ دہائی میں جہاں ڈیجیٹل دنیا نے دنیا بھر کے انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے وہیں اس تیز رفتار ترسیل اور آزاد اظہارِ رائے نے کئی سماجی، مذہبی اور اخلاقی پہلوئوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انٹرنیٹ، خصوصاً سوشل میڈیا، ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں ہر قسم کی معلومات چاہے وہ درست ہوں یا گمراہ کن چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی کونے تک پہنچ جاتی ہیں۔ اکثر نوجوان لاعلمی، جذباتیت یا محض ’’وائرل‘‘مواد شیئر کرنے کی خواہش میں وہ کچھ کر بیٹھتے ہیں جس کے نتائج ان کی زندگی کو برباد کر سکتے ہیں۔ وہ جانے انجانے میں ایسے ویڈیوز، تصاویر، تبصرے یا پوسٹس شیئر کر دیتے ہیں جنہیں پاکستان کے آئین، مذہبی اقدار اور سماجی روایتیں توہین سمجھتے ہیں۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان میں توہینِ مذہب ایک نہایت حساس موضوع ہے۔ آئینی اور قانونی طور پر اس پر سخت ترین سزائیں موجود ہیں۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295، 295-A، 295-B اور 295-C کے تحت ایسے جرائم پر عمر قید، سزائے موت یا جرمانے جیسے سخت نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ ان دفعات کا اطلاق صرف مذہبِ اسلام پر ہی نہیں بلکہ تمام مذاہب کے احترام پر ہوتا ہے لیکن عملی طور پر زیادہ تر کیسز اسلام کے مقدس شعائر سے متعلق ہوتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عدالتیں جب ایسے مقدمات کی سماعت کرتی ہیں تو وہ قانون کے ہر پہلو پر باریک بینی سے غور کرتی ہیں، لیکن عوامی ردِ عمل اتنا شدید ہوتا ہے کہ کئی بار مقدمہ چلنے سے پہلے ہی فیصلے سڑکوں پر ہو جاتے ہیں۔نوجوانوں کے لئے اس ماحول میں ایک باخبر، ذمہ دار اور محتاط شہری بننا نہایت ضروری ہے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ڈیجیٹل دنیا کی ہر ’’شیئر‘‘اور ہر ’’لائیک‘‘صرف ایک بٹن دبانے کا عمل نہیں بلکہ اس کے پیچھے نتائج کی ایک پوری دنیا ہے۔ اگر کوئی نوجوان کسی بھی توہین آمیز ویڈیو کو بغیر سوچے سمجھے صرف ’’دلچسپی‘‘ یا’’مزاح‘‘کے جذبے سے شیئر کرتا ہے تو وہ قانونی طور پر اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں ایسے درجنوں کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں نوجوانوں نے لاعلمی میں گستاخانہ پوسٹس شیئر کیں اور بعدازاں نہ صرف ان کی گرفتاری ہوئی بلکہ ان کی زندگی کے کئی قیمتی سال جیل میں گزرے۔ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مطابق، گستاخانہ مواد سے متعلق تقریبا چارلاکھ سوشل میڈیا اکائونٹس کی نگرانی کی گئی، جن میں سینکڑوں نوجوانوں کو شامل تفتیش کیا گیا۔ ان میں سے کئی طالبعلم تھے جو نہایت ذہین اور باصلاحیت تھے، لیکن صرف ایک غلطی ان کے مستقبل کو داغدار کر گئی۔ ایسے واقعات نہ صرف انفرادی سانحہ ہوتے ہیں بلکہ پورے معاشرے میں خوف، تشویش اور مذہبی عدم برداشت کو جنم دیتے ہیں۔یہاں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں، ان سے کھل کر بات کریں، انہیں بتائیں کہ آزادی اظہار رائے اور مذہبی اقدار کے درمیان ایک نازک توازن ہوتا ہے۔ محض اظہارِ رائے کے نام پر کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔ تعلیمی ادارے خاص طور پر اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہاں اس موضوع پر لیکچرز، سیمینارز، ورکشاپس اور مباحثے ہونے چاہئیں، تاکہ طلبہ و طالبات کو یہ شعور دیا جا سکے کہ ڈیجیٹل دنیا میں ہر قدم سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت اٹھانا ضروری ہے۔حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے موثر روابط قائم رکھے تاکہ گستاخانہ مواد کے خلاف فوری کارروائی ممکن ہو۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے پاکستانی حکومت کے ساتھ تعاون کیا ہے اور ایسے مواد کو ہٹایا ہے، لیکن یہ عمل تیز اور مربوط ہونا چاہیے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی صرف سزا دینے کے بجائے آگاہی، تربیت اور بحالی پر توجہ دینی چاہیے۔ نوجوانوں کو صرف مجرم کے طور پر نہیں بلکہ اصلاح کے قابل شہری کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز گستاخانہ مواد نوجوانوں کو اس کے علاوہ ہیں بلکہ ہوتا ہے کے ساتھ کرتا ہے

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل