اس سے زیادہ دیوار کے ساتھ نہیں لگ سکتے، اب مُلک بھر میں احتجاج ہوگا، جیل سے خود لیڈ کروں گا، عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی 2025ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں عدلیہ اور ایگزیکٹو سے کوئی ریلیف نہیں مل رہا، 5 جون کو سماعت ہوتی ہے یا نہیں یہ سوالیہ نشان ہے، ہمیں امید ہے کہ ریلیف ملے گا لیکن اس سے زیادہ دیوار کے ساتھ نہیں لگ سکتے، اب مُلک بھر میں احتجاج ہوگا، جیل سے خود لیڈ کروں گا، میں سب جانتا ہوں کہ کس کو کیوں ملاقات کے لیے آنے دیا جاتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عمران خان نے حکومت کے خلاف خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، اس حوالے سے تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے پارٹی قائد کا پیغام عوام تک پہنچایا۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے، احتجاجی تحریک کا مرکز اسلام آباد نہیں ہوگا بلکہ ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلائیں گے۔(جاری ہے)
عمران خان کہتے ہیں کہ ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا گیا ہے، ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا، اب ہم ملک بھر میں احتجاج کریں گے جسے میں جیل سے خود لیڈ کروں گا، احتجاجی تحریک سے متعلق تمام ہدایات میں جیل سےدوں گا، اس دفعہ تحریک کو نتیجہ خیز بنانا ہے، تحریک چلانے میں رکاوٹیں آتی ہیں لیکن ہمیں بھی طریقے آتے ہیں، پارٹی لیڈرشپ پر اعتماد ہے لیکن تحریک میں لیڈ خود کروں گا۔ سینیٹرعلی ظفر نے بتایا کہ عمران خان بہت سنجیدہ ہیں اور اب جو تحریک چلے گی ایسی پہلے کبھی نہیں چلی ہوگی، بانی پی ٹی آئی نے مجھےذمہ داری دی ہے کہ احتجاجی تحریک کا پلان بنا کر دوں، بانی پی ٹی آئی سے آئندہ ملاقات پر احتجاجی تحریک کا پلان پیش کروں گا، وکلا اور پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد منصوبہ بندی کریں گے، جس کے بعد چند دنوں میں احتجاجی تحریک کی حکمت عملی تیار ہو جائے گی، اگلی ملاقات کے بعد عمران خان خود ذمہ داریاں تفویض کریں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے احتجاجی تحریک کروں گا جیل سے کے بعد
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔