انکم ٹربیونل نے معروف رئیل اسٹیٹ ٹائکون ملک ریاض، ان کے بیٹے احمد علی ریاض ملک اور بحریہ ٹاؤن سے منسلک دیگر اہم شخصیات کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

یہ وارنٹ کراچی کے ضلع ملیر میں ایم-9 موٹروے کے ساتھ واقع سرکاری اراضی کی غیرقانونی الاٹمنٹ کے مقدمے میں جاری کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ملک ریاض کیخلاف نیب کی کارروائی، بحریہ ٹاؤن کی رہائشی و تجارتی جائیدادیں سر بمہر، اکاؤنٹس اور گاڑیاں منجمد

عدالت نے ملزمان بار بار طلبی کے باوجود پیش نہیں ہونے پر وارنٹ جاری کردیے ہیں۔ ملزمان میں ملک ریاض، ان کے بیٹے احمد علی ریاض ملک، خاندان کے رکن اور ایگزیکٹو زین ملک، بحریہ ٹاؤن کے چیف ایگزیکٹو شاہد محمود قریشی، اور قریبی رشتہ دار اور مبینہ سہولت کار وقاص رفعت و وسیم رفعت شامل ہیں۔

نیشنل اکاؤنٹی بیورو (نیب) کے مطابق ملزمان نے سندھ حکومت کے حکام کے ساتھ مبینہ طور پر ملی بھگت کر کے، ایم-9 کوریڈور کے ساتھ واقع سرکاری اراضی کو غیر قانونی طور پر پرائیویٹ اداروں کو منتقل کیا حالانکہ یہ زمین عوامی انفراسٹرکچر اور ترقی کے لیے مختص تھی۔

نیب کا الزام ہے کہ یہ زمین جعلی دستاویزات، ریکارڈ میں ترمیم، اور سرکاری اختیار کے غلط استعمال کے ذریعے غیر قانونی طور پر سرکاری سے نجی اداروں کو منتقل کی گئی جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

یہ بھی پڑھیے؛ ماضی میں ن لیگ سمیت کسی میں یہ جرأت نہیں تھی کہ ملک ریاض کیخلاف ریفرنس دائر کرسکے، رانا ثنا اللہ

مزید برآں ملزمان پر مجرمانہ اعتماد شکنی، طاقت کے استعمال، اور عوامی وسائل کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن سے بڑے ہاؤسنگ منصوبوں میں بدعنوانی اور احتساب کے حوالے سے سنگین تشویش پیدا ہو رہی ہے۔

عدالت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو گرفتار کریں اور پیش کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ملک ریاض

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار