اپنے ایک انٹرویو میں شام پر قابض ٹولے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ خطے میں شام اور اسرائیل کے مشترکہ دشمن ہیں۔ ہم خطے کی سلامتی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آج شام پر قابض ٹولے کے سربراہ "ابو محمد الجولانی" نے کہا کہ دمشق اور تل ابیب کے درمیان گولہ باری کا دور ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں شام اور اسرائیل کے مشترکہ دشمن ہیں۔ ہم خطے کی سلامتی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ابو محمد الجولانی نے ان خیالات کا اظہار ایک یہودی رسالے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر انہوں نے 1974ء میں اختلافات کو ختم کرنے کے معاہدے کی جانب واپس لوٹنے کا اظہار کیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف سیز فائر تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں شام و اسرائیل کے درمیان باہمی خودمختاری کی ضمانت موجود ہو اور گولان ہائٹس میں دروزی برادری سمیت عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

ابو محمد الجولانی نے اسرائیل کے ساتھ فوری تعلقات کی بحالی کے امکان کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں بین الاقوامی قوانین اور شام کی خودمختاری کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن، خوف سے نہیں بلکہ باہمی احترام سے حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرامپ سے براہ راست بات چیت کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ علاقائی استحکام کے لیے شام کو ایک ایماندار ثالث کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ The Jewish Journal ایک آزاد اور غیر منافع بخش ہفتہ وار امریکی جریدہ ہے جو لاس اینجلس میں یہودی کمیونٹی کے مسائل پر بات کرتا ہے۔ اسے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سب سے نمایاں یہودی میڈیا آؤٹ لیٹس میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ابو محمد الجولانی اسرائیل کے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت