سکردو میں ایم ڈبلیو ایم کی شہدا کانفرنس جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
سٹیج پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، رکن قومی اسمبلی انجینئر حمید حسین، ناصر شیرازی سمیت دیگر قائدین موجود ہیں۔ انجمن امامیہ بلتستان کے ممبران بھی کانفرنس میں شریک ہیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام سکردو میں تکریم شہداء کانفرنس کی جھلکیاں
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام سالانہ شہداء کانفرنس سکردو میں جاری ہے۔ تکریم شہداء و حمایت مظلومین جہان کانفرنس یادگار شہداء پر منعقد ہو رہی ہے جس میں عوام کی ایک بڑی تعداد شریک ہے۔ کانفرنس میں ایم ڈبلیو کے مرکزی و صوبائی قائدین شریک ہیں جبکہ سکردو اور شگر سے تحریک انصاف کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس میں شہداء کے خانوادے بھی شریک ہیں۔ سٹیج پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، رکن قومی اسمبلی انجینئر حمید حسین، ناصر شیرازی سمیت دیگر قائدین موجود ہیں۔ انجمن امامیہ بلتستان کے ممبران بھی کانفرنس میں شریک ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کانفرنس میں شریک ہیں
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔