یونیورسٹی کی تقریب میں اسکالرز کا تنازعہ کشمیر پر عالمی مداخلت کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
ذرائع کے مطابق انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیلاگ، ڈویلپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز (IDDDs) نے راولاکوٹ آزاد کشمیر میں محی الدین اسلامک یونیورسٹی کے تعاون سے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اسلام ٹائمز۔ انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیلاگ، ڈویلپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز (IDDDs) نے راولاکوٹ آزاد کشمیر میں محی الدین اسلامک یونیورسٹی کے تعاون سے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا۔ ذرائع کے مطابق تقریب 6 اور 7 مئی کو پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں منعقد کی گئی جب بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا اور اس کی خودمختاری اور شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ اس کے جواب میں پاکستان نے 10مئی کو چھ بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے جس سے بھارت کو ملکی اور عالمی سطح پر کافی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں ممالک کی جوہری صلاحیتوں کے پیش نظر صورتحال کی سنگینی نے تنازعہ کشمیر پر عالمی تشویش کو ایک بار پھر بڑھا دیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ثالثی کی پیشکش کرنے پر مجبور کیا۔ ان کے بیان سے اس بات کی توثیق ہوئی کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان بنیادی حل طلب مسئلہ ہے جس پر فوری بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے۔
کانفرنس کا افتتاح فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر آفاق اور پروفیسر ڈاکٹر تاج الرحمان نے کیا جنہوں نے کہا کہ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک تنازعہ ہے جس کی توثیق اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون سے ہوتی ہے۔ انہوں نے ثالثی اور سہولت کاری سے بھارت کے مسلسل گریز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی معقول وجہ کے دوطرفہ ازم پر اس کے اصرار سے تنازعے نے طول پکڑ لیا ہے۔ انہوں نے اسکالرز اور طلباء پر زور دیا کہ وہ علمی طور پر مسئلہ کشمیر سے جڑ جائیں اور ایسی تحقیق میں حصہ لیں جس سے قومی اور عالمی سطح پر پالیسی سازوں کو فائدہ ہو۔یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار عمر ہاشمی نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے تمام فریقین کی ذمہ داری کو اجاگر کیا۔
قانون کے اسسٹنٹ پروفیسرشوکت نے تنازعہ کشمیر کے قانونی پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی 5 جنوری 1949ء کی قرارداد کی اہمیت پر زور دیا جو نہ صرف کشمیریوں کے حق خودارادیت کی ضمانت دیتی ہے بلکہ ایک قابل عمل حل بھی فراہم کرتی ہے۔ آئی ڈی ڈی ڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ولید رسول نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو کشمیر کو اندرونی معاملہ بنانے کے لیے بھارت کے یکطرفہ اقدامات کے باوجود صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش سے تنازعے کی بین الاقوامی حیثیت کی تصدیق ہوتی ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر فیکلٹی ممبران لبیشا، مریم، رفعت اور سید فیضان کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ جات کے طلباء و طالبات نے سوال و جواب کے سیشن میں حصہ لیا اور مباحثے کو بامعنی بنا دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بین الاقوامی
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔