ایف آئی اے امیگریشن نے نیو اسلام آباد ایئر پورٹ سے جعلی ریزیڈنٹ کارڈ پر لتھوینیا جانے  کی کوشش پر 4 مسافروں  کو  آف لوڈ کرکے تحویل میں لے لیا چاروں بھائی ہیں جنہیں دستاویزات سمیت مزید تحقیقات کے لیے انسداد انسانی سمگلنگ سیل کے حوالے کردیا گیا۔

حکام کے مطابق نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے باکو ازربیجان جانے والی پرواز نمبر  j2144
کی بریفنگ جاری تھی کہ جہلم سے تعلق رکھنے والے چار بھائی جن کے نام  ذیشان منیر، بدر منیر، حسن جمیل اور محمد علی ہیں سفر کے لیے سفری دستاویزات ہے ہمراہ امیگریشن کلرینس کی خاطر امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچے جہاں امیگریشن عملے نے  دستاویزات کو مشکوک پایا گیا۔

مسافروں کی جانب سے پیش کئے گئے لتھوینیا کے ریزیڈنٹ کارڈ جعلی نکلے امیگریشن سکینڈ لائن آفس کے مطابق بھی مذکورہ ریزیڈنٹ کارڈ جعلی قرار پائے چاروں مسافروں نے باکو پہنچ کر لتھوینیا کا سفر کرنا تھا جس پر چاروں کو آف لوڈ کرکے تحویل میں لے لیا گیا۔

حکام کا مزید کہناتھاکہ ابتدائی تفتیش کے مطابق مسافروں نے آن لائن سوشل میڈیا پر ایجنٹ کا اشتہار دیکھ کر رابطہ کیا۔

مذکورہ ایجنٹ آن لائن اشتہارات کے ذریعے شہریوں کو اپنے جال میں پھنساتا ہے۔مسافروں نے ریزیڈنٹ کارڈ کے حصول کے لئے ایجنٹ کو مجموعی طور پر 8 ہزار  یورو  مختلف طریقوں سے آن لائن ادا  کیے چاروں مسافروں کو  دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی کے لیے  ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ شہری اپنی ذاتی دستاویزات غیر متعلقہ شخص کے حوالے نہ کریں، بیرون ملک ویزہ حصول کے لئے ہمیشہ متعلقہ ملک کی ایمبیسی سے رابطہ کریں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان ریزیڈنٹ کارڈ

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام

گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء

مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔

سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔

عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ 2026 میں نافذ کیے جانے والے نئے قوانین کیا ہیں؟
  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت