اسلام آباد(نیوز ڈیسک)امریکہ میں مقیم اوورسیز پاکستانی اور ثالثی کردار ادا کرنے والے تنویر احمد خان نے انکشاف کیا ہے کہبانی پی ٹی آئی عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ہونے والے ممکنہ مذاکرات میں متعدد متضاد بیانات اور پیغامات صورتحال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

ایک حالیہ انٹرویو میں تنویر احمد خان نے کہا کہ عمران خان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پیغام آتا ہے کہ وہ براہ راست اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن اس کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا بیانیہ آتا ہے کہ وہ تحریک چلائیں گے اور “زمین گرم” کریں گے۔ پھر چند گھنٹوں بعد علیمہ خان کا پیغام آتا ہے کہ “بات کرنی ہے تو give and take کی بنیاد پر ہونی چاہیے”۔

تنویر احمد خان کا کہنا تھا کہ یہ تین مختلف بیانات ایک ہی پارٹی کے اعلیٰ سطحی افراد کی طرف سے آنا ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے، جو کہ مذاکراتی عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوال بالکل جائز ہے کہ “کہاں ہے اصل مسئلہ؟” اور انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب تک جذبات اور ذاتی پسند و ناپسند کو ایک طرف نہیں رکھا جائے گا، پاکستان کی سیاست میں استحکام نہیں آ سکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کے قریبی افراد، جیسے علی امین، علیمہ خان اور بیرسٹر گوہر، سب کی رسائی خان صاحب تک ہے، لیکن سب کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے، جس سے خان صاحب کے بیانیے میں بھی ابہام پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب نیلسن منڈیلا کی مثالیں دیتے ہیں اور خود کو پاکستان کا “منڈیلا” سمجھتے ہیں، مگر موجودہ سیاسی حالات اس سطح کے مفاہمتی رویے کے متقاضی نہیں۔

تنویر احمد خان نے مزید کہا کہ اگرچہ “ڈیل” کا لفظ سیاسی طور پر نامناسب ہے، لیکن خان صاحب کی نیت یہی تھی کہ ملک کے مفاد میں معاملات طے پا جائیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ خان صاحب چاہتے تھے کہ ان کے ذریعے کوئی بریک تھرو ہو، لیکن مختلف بیانات اور شخصیات کی ذاتی رائے نے اس عمل کو مشکل بنا دیا۔

ان بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عمران خان اور ان کی ٹیم کے درمیان مکمل ہم آہنگی نہ ہونے کے سبب مذاکراتی عمل میں پیش رفت سست روی کا شکار ہو رہی ہے، جس کا اثر براہ راست ملک کی سیاسی فضا پر پڑ رہا ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تنویر احمد خان انہوں نے خان اور کہا کہ

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان