اسلام آباد ہائیکورٹ نے پراپرٹی ٹیکس بڑھانے سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایم سی آئی کو پراپرٹی ٹیکس بڑھانے سے روک دیا۔
رپورٹ کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے کیسز یکجا کرکے سماعت کی، درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی، بدر اقبال، محمد علی و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔
الیکشن کمیشن، سی ڈی اے اور ایم سی آئی کے وکلا اور نمائندے عدالت میں پیش ہوئے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل و دیگر بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام آباد بلدیاتی الیکشن کمیشن ایکٹ 2025 اسٹینڈنگ کمیٹی میں زیر بحث ہے، اسٹینڈنگ کمیٹی سے پھر یہ بل پارلیمنٹ آئے گا اور اس پر بحث ہوگی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق رپورٹس عدالت میں جمع کرائی گئیں۔
الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے 120 دنوں کی ٹائم لائن دی تھی، جنرل الیکشن میں کاغذات نامزدگی ایک جبکہ بلدیاتی انتخابات میں زیادہ ہوتے ہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ پھر تو یہ الیکشن نہ ہی سمجھا جائے، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کہ ترمیم کتنے عرصے میں ہوجائے گی؟
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ چھبیسویں آئینی ترمیم تو جلد ہوگئی تھی، یہ والی ترمیم بھی جلد ہوگی یا سست ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ترمیم بھی جلد ہی ہو جائے گی۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ جب منتخب مقامی حکومت ہی نہیں تو پراپرٹی کیسے بڑھ سکتا ہے؟
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ جب تک مقامی حکومت منتخب نہیں ہوتی پراپرٹی ٹیکس کی پرانی شرح لاگو رہے گی۔
عدالت نے کیس کی سماعت 24 ستمبر تک کیلئے ملتوی کردی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل الیکشن کمیشن اسلام آباد
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔