قاہرہ میں اپنے ایرانی ہم منصب کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کیساتھ خطاب میں مصری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ ہماری مشاورت جاری ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ایران کیساتھ ہمارے تعلقات روز افزوں ترقی کر رہے ہیں اسلام ٹائمز۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے آج قاہرہ میں اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس دوران اسکائی نیوز کے ایک سوال کے جواب میں ایران و مصر کے درمیان باہمی تعلقات کی توسیع اور مستقبل قریب میں سفارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے بارے بدر عبد العاطی کا کہنا تھا کہ باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے پیشرفت ہوئی ہے اور یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ مصر اس قیمتی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات کو استعمال کرتا ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ خطے میں بحران نہ پھیلے اور نہ ہی کسی جنگ کا باعث بنے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مشاورت جاری ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات روز افزوں ترقی کر رہے ہیں، بدر عبد العاطی نے کہا کہ خلیج فارس کے ممالک بھی ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی بہت خطرناک ہے ہم خطے میں کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لئے ایران اور امریکہ کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کو استعمال کر رہے ہیں۔ اعلی مصری سفارتکار نے کہا کہ مصر خطے میں سلامتی، امن و استحکام کے لئے کوشاں ہے اور ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر ہم سبھی کا اتفاق ہے مزید یہ کہ خطے میں درپیش خطرات و چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیئے۔

ایران کے خلاف اسرائیلی دھمکیوں اور خطے میں جنگ کے تسلسل کے حوالے سے پوچھے گئے ملکی اخبار الاحرام کے جواب میں مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے مصر کی خارجہ پالیسی میں ایسے اصول طے کئے ہیں کہ جو کسی بھی فوجی خطرے کی مکمل مخالفت کرتے ہیں اور یہ امر (یعنی ایران پر حملہ) ہماری رائے میں ناقابل قبول ہے، جیسا کہ مصر کی کوششیں ہمیشہ سیاسی و پرامن حل کے بارے میں رہی ہیں لہذا کشیدگی میں کوئی بھی اضافہ جلتی پر تیل ڈالنا ہے جس سے خطہ قابو سے باہر ہو جائے گا اور خطے میں مزید مسائل و بحران پیدا ہوں گے۔

مصری وزیر خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم سیاسی و پرامن حل کے لئے کوشاں ہیں اور ہم نے ایران و امریکہ کے مذاکرات کا بھی خیر مقدم کیا جس کے بارے میں نے کل ہی اسٹیو وٹکاف سے بھی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر و امریکہ کے درمیان بنیادی و پرامن حل کے بارے وسیع تفاہم موجود ہے جبکہ طاقت کا استعمال خطے کے ممالک و اقوام عالم کے مفاد میں نہیں۔ اس حوالے سے اپنی گفتگو کے آخر میں بدر عبد العاطی نے عدم جوہری پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے بارے بھی کہا کہ اس معاہدے کو مکمل طور پر لاگو کیا جانا چاہیئے اور میں نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کے ساتھ بھی اس بارے بات کی ہے کیونکہ جب ہم جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی بات کرتے ہیں تو اس معاملے پر عملدرآمد بھی ہونا چاہیئے!

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: باہمی تعلقات تعلقات کو نے کہا کہ ایران کے کے بارے کے ساتھ کہ مصر ہے اور کے لئے

پڑھیں:

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں

تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔

مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔

ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم