ایران میں انسانی سمگلروں کے شکنجے سے 10 پاکستانی شہری بازیاب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
ایران میں مقیم پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ انسانی سمگلنگ ایک سنگین مسئلہ ہے اور پاکستانی شہریوں کو چاہئے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی یا مشکوک پیشکش کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے والدین اور نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جعلی ایجنٹوں اور سمگلروں کے جھانسے میں آ کر اپنی جان اور مستقبل خطرے میں نہ ڈالیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران میں انسانی سمگلروں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کے دوران 10 پاکستانی شہریوں کو بازیاب کرا لیا گیا۔ ایرانی حکام کی کارروائی کے بعد تمام بازیاب افراد کو پاکستانی سفارت خانے نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے، ان افراد کو انسانی سمگلروں نے یورپ لے جانے کا جھانسا دے کر یرغمال بنا رکھا تھا۔ پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے ایرانی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پاکستانیوں کی مکمل دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور انہیں تمام تر ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
سفیر کا کہنا تھا کہ انسانی سمگلنگ ایک سنگین مسئلہ ہے اور پاکستانی شہریوں کو چاہئے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی یا مشکوک پیشکش کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے والدین اور نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جعلی ایجنٹوں اور سمگلروں کے جھانسے میں آ کر اپنی جان اور مستقبل خطرے میں نہ ڈالیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے بھی اس کامیاب آپریشن پر ایرانی حکام کا شکریہ ادا کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ پاکستان انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سمگلروں کے
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی