ملیر جیل سے قیدیوں کا فرار: دیواریں کمزور تھیں یا اہلکاروں نے غفلت برتی؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
کراچی کی ملیر جیل سے سینکڑوں کی تعداد میں قیدی فرار ہوگئے ہیں جن میں سے کچھ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ باقی مفروروں کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ اس واقعے کے بعد بہت سے سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں جیسا کہ ان قیدیوں کو پھر سے کیسے پکڑا جائے گا، کیا اس نوعیت کا زلزلہ آیا جس سے دیواروں میں دراڑیں پڑگئی ہوں یا پھر وہ حاضر ڈیوٹی سیکیورٹی اہلکاروں کی غفلت تھی؟
کیا مفرور قیدیوں کو دوبارہ پکڑنا ممکن ہے؟قانونی ماہر خیر محمد خٹک نے ملیر جیل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی قیدی جیل جاتا ہے اس کی انٹری ہوتی ہے اور اس کا بائیو ڈیٹا جیل کا ریکارڈ بن جاتا ہے اور ساتھ ہی ہر قیدی کی شناختی علامت بھی درج کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملیر جیل سے قیدیوں کا فرار: آئی جی جیل عہدے سے فارغ، ڈپٹی آئی جی، جیل سپرنٹنڈنٹ معطل
ان کا کہنا ہے کہ جیل وارنٹ پر قیدی کی تصویر ہوتی ہے لہذا یہ کہنا کہ ان قیدیوں کو گرفتار کرنا مشکل ہے ایسا نہیں بلکہ انہیں پھر سے پکڑلینا بہت آسان ہے۔
محافظ کیا کر رہے تھے؟اس حوالے سے خیر محمد خٹک کا یہ کہنا ہے کہ ان ملزمان کے خلاف دفعہ 223, 224, 225 کے تحت نیا مقدمہ بنے گا لیکن یہاں ایک شرط یہ بھی ہے کہ قیدی تو بھاگے لیکن اس غفلت و لاپرواہی کے مرتکب محافظ بھی اس مقدمے میں شریک ملزم ہوں گے اور ان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہو گی۔
کیا زلزلے سے جیل کی قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا؟خیر محمد خٹک کے مطابق اگر زلزلے سے ملیر جیل کی عمارت کی دیواروں کو نقصان پہنچا ہے تو اس حوالے سے ایک انکوائری ہونی چاہیے، یہ انکوائری اس لیے ہوگی کہ کیا دیوار ٹوٹی بھی ہے یا نہیں؟ اور اگر دیوار ٹوٹے بنا قیدی فرار ہوئے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ جن مقدمات میں براہ راست عوام متاثر ہوں ایسے مقدمات میں انکوائری ضرور کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: کراچی میں زلزلے کے دوران ملیر جیل میں ہنگامہ، 200 سے زائد قیدی فرار، ایک ہلاک
انہوں نے کہا کہ مائینز اینڈ منرلز کے ماہرین دیکھیں گے کہ متعلقہ دیوار قدرتی آفت سے ٹوٹی یا توڑی گئی اب سوال یہ ہے کہ اتنا بڑا زلزلہ نہیں تھا اگر تھا بھی تو جیل کے قریب عمارتوں کا معائنہ کیا جائے جس سے پتا چلے گا کہ گھروں کی دیواروں میں شگاف پڑے یا نہیں۔
قیدیوں اور محافظوں کو کتنی سزا ہوگی؟اس حوالے سے خیر محمد خٹک کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کے خلاف نیا مقدمہ بنے گا اور ساتھ ہی ان محافظوں کے خلاف بھی جن کی غفلت سے قیدی فرار ہوئے، اس کیس میں چارج شیٹ پیش کی جائے گی اس کے بعد ایویڈنس پیش کیا جائے گا ثابت ہونے پر 6 ماہ سے 2 سال تک سزا ہو سکتی ہے لیکن اس میں ایک اور بات زیر غور ہے اگر قیدی قتل کا مجرم ہے تو اس کی سزا اس کے گزشتہ کیس کے حساب سے زیادہ ہوگی اس طرح ہر قیدی کو اس کے گزشتہ جرم کے حساب سے اس کیس میں سزا ہو سکتی ہے ساتھ جرمانہ بھی عائد ہوسکتا ہے یا صرف جرمانہ لگ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جیل بریک زلزلہ ملیر جیل ملیر جیل سے قیدی فرار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جیل بریک زلزلہ ملیر جیل ملیر جیل سے قیدی فرار خیر محمد خٹک ملیر جیل سے کے خلاف
پڑھیں:
مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
مردان میں خاتون سمیت 3 افراد کے بہیمانہ قتل کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں واردات کے بعد مقتولین کے 2 بچوں کو ساتھ لے جانے والے ملزمان بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مردان کے علاقے شیخ ملتون میں گزشتہ روز پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں مسلح ملزمان نے خاتون سمیت 3 افراد کو قتل کر دیا تھا۔ واردات کے بعد ملزمان مقتولین کے 2 کمسن بچوں اور گاڑی کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے، جس پر علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:مردان، خواجہ سرا کو چھری کے وار سے قتل کردیا گیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ملزمان دونوں بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر نامعلوم مقام کی جانب فرار ہو گئے۔ بچوں کے محفوظ مل جانے پر اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم ملزمان تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ ملزمان کے فرار کے راستوں کا بھی سراغ لگا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی اس واردات کے محرکات اور پس منظر کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ جدید تفتیشی ذرائع اور دستیاب شواہد کی مدد سے ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قتل مردان