ریکارڈ جلنے اور دیواریں گرنے کے بعد نیپالی سپریم کورٹ کا ٹینٹ میں کام کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
نیپال میں جنریشن زی کے مظاہروں کے بعد ان اداروں نے سروسز کی بحالی شروع کر دی جن کی عمارات جل چکی ہیں، ان میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے جس کے عملے نے ٹینٹ لگا کر کام کا آغاز کیا ہے۔
کھٹمنڈو پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق عبوری حکومت کے لیے وزیراعظم منتخب ہونے والی سشیلا کارکی نے باضابطہ طور پر اپنا عہدہ سنبھال لیا ہے اور انہوں نے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے 10، 10 لاکھ روپے کے اعلان کے علاوہ انہیں ’شہید‘ بھی قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق جن محکموں نے سروسز بحال کی ہیں ان میں وزارت خزانہ بھی شامل ہے، اس کے ترجمان تانکا پراساد پانڈے کا کہنا ہے کہ وزارت نے ریاستی معاملات کے لیے رقوم جاری کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ۔
نیپال کی نئی وزیراعظم جن کا انتخاب ایک ایپ پر ووٹنگ کے ذریعے ہوا ان کے مطابق ’محصولات کی وصولی بھی شروع کر دی گئی ۔
سپریم کورٹ کے ایک عہدیدار کے مطابق احتجاج کے دوران تقریباً تمام قانونی دستاویزات اور فیصلے جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔
اسی طرح جن وزارتوں سے متعلق عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے وہ ابھی تک سروسز کو بحال نہیں کر پائی ہیں ان میں وزارت تعلیم بھی شامل ہے اور اس کی سروسز کو کیشر محل سے شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جہاں یہ 2015 کے زلزلے سے پہلے تک موجود تھی۔
وزارت صحت و آبادی نیشنل ہیلتھ ریسرچ کونسل کی عمارت سے کام شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
اسی طرح وزارت صحت و آبادی نیشنل ہیلتھ ریسرچ کونسل سے سروس شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
وزارت تعلیم سے تعلق رکھنے والے سرکاری افسر ڈاکٹر نواراج جوشی کا کہنا ہے کہ ’آگ نے سب کچھ جلا دیا اور پیچھے کچھ نہیں بچا اور وزارت ایسا کوئی مقام تلاش کر رہی ہے جہاں سے وہ اپنی سروسز کو بحال کر سکے۔
اسی طرح ملک کے ایک اور اہم ادارے سپریم کورٹ نے بھی اپنی اپنا کام شروع کر دیا ہے تاہم احتجاج کے دوران اس کی عمارت چونکہ راکھ ہو چکی ہے اس لیے عملے نے سپریم کورٹ کے احاطے میں تنبو لگا کر مقدمات سے متعلق امور نمٹانا شروع کر دیے ہیں، تاہم عمارت نہ ہونے اور خیموں کے اندر زیادہ جگہ نہ ہونے کے باعث مقدمات کی سماعت شروع نہیں ہو سکی اور حکام کا کہنا ہے کہ میں مزید کچھ روز لگ سکتے ہیں۔
دوسرے ادارے ابھی تک کام شروع نہیں کر سکے ہیں تاہم اس کے لیے تیاری جاری ہے، عبوری حکومت کی جانب سے احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ جس قدر جلد ممکن ہو عوام کی سہولت کے لیے سروسز کی فراہمی شروع کی جائے اور زندگی کو معمول کی طرف لایا جائے۔
خیال رہے ستمبر کے پہلے عشرے کے اواخر میں نیپال میں اس وقت احتجاج کی ایک شدید لہر اٹھتی دیکھی گئی جب حکومت نے سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی تھی، اس کے خلاف نوجوان گھروں سے باہر نکلے اور حکومت کے خلاف شدید مظاہرے شروع ہو گئے، گزشتہ ہفتے حکومت نے انٹرنیٹ پر سے پابندی ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے تمام سرورز بحال کر دیے تاہم اس سے جنریشن زی کی برہمی میں کمی نہ آ سکی اور احتجاج کا دائرہ پھیلتا گیا۔
اس دوران پارلیمان سمیت دیگر اہم سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کیا گیا۔ 9 ستمبر کو وزیراعظم کے پی شرما اولی نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور روپوش ہو گئے۔ مشتعل لوگوں نے ان کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی تھی اور آگ لگا دی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف