پاکستانی معیشت کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے بڑی خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 80کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی۔
اے ڈی بی کے اعلامیے کے مطابق پاکستان نے میکرو اکنامک حالات بہتر کرنے میں کافی پیشرفت کی ہے اور رقم کی منظوری مضبوط مالی پائیداری کے لیے دی گئی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ یہ پروگرام مزید پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے حکومت کے عزم کی حمایت کرتا ہے، یہ پروگرام عوامی مالیات کو مضبوط اور پائیدار ترقی کو فروغ دے گا۔
اعلامیے کے مطابق پروگرام سے مالیاتی خسارے اور قرضوں میں کمی کا امکان ہے، ترقیاتی اور سماجی اخراجات کے لیے مزید مالی گنجائش پیدا ہوگی۔
اے ڈی بی نے مزید بتایا کہ پاکستان کو 1966 سے اب تک 52 ارب ڈالر سے زائد کا تعاون فراہم کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔