’موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کی معیشت کو چاٹ رہی ہیں‘
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
موسمیاتی تبدیلیوں نے پاکستان کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ شدید گرمی، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات نے ملک کے مالیاتی ڈھانچے کو تہس نہس کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی ملیریا کے اضافہ کا سبب بن گئی
اہم نقصانات:
زراعت تباہ: گندم اور چاول کی پیداوار میں بڑی گراوٹ، جس سے برآمدات کم ہوئیں۔
توانائی بحران: پانی کی کمی سے ہائیڈرو پاور کم ہوا، بجلی کے بحران نے صنعتوں کو ٹھپ کر دیا۔
انفراسٹرکچر کو نقصان: 2022 کے تاریخی سیلاب نے سڑکوں، پلوں اور گھروں کو تباہ کر دیا، جس کی مرمت پر اربوں روپے خرچ ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو سالانہ 4 سے 5 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔
حکومتی ردعمل:موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے نئی پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی اداروں سے مالی مدد کی درخواست کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انفرااسٹریکچر موسمیاتی تبدیلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔