Islam Times:
2026-06-03@01:22:34 GMT

انقلاب، جمہور اور انتخابات امام خمینی کی نظر میں

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

انقلاب، جمہور اور انتخابات امام خمینی کی نظر میں

اسلام ٹائمز: امام خمینی رضوان اللہ علیہ امور سلطنت میں عوام کی شرکت کو واجب کے قریب تر سمجھتے تھے۔ وہ عوام کو انتخابات میں حصہ لینے کیلئے سختی کیساتھ حکم دیتے تھے۔ امام خمینی انقلاب اسلامی کے بعد اپنے وطن کو جمہوری اسلامی سمجھتے تھے اور اس انقلاب کو جو کہ اصلاً ایک اسلامی انقلاب تھا، اسکو اسلامی عوامی انقلاب سمجھتے تھے۔ حضرت امام خمینی عوام کے ووٹوں کے ذریعے منتخب ہونیوالی پارلیمنٹ کو ایک مقدس ادارہ سمجھتے تھے اور اسکے سامنے جھکنے کو اسلام کے سامنے جھکنا قرار دیتے تھے۔ حضرت امام خمینی جمہور کے ذریعے منتخب کی گئی پارلیمنٹ کو سلطنت کے تمام امور میں سرفہرست قرار دیتے تھے۔ تحریر: محمد اشفاق شاکر

گذشتہ کچھ عرصے سے چند علماء کے کچھ افکار و نظریات کی وجہ سے ملک میں اہل تشیع کے مابین ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا جمہوریت، انتخابات اور پارلیمنٹ اسلام اور ولایت کے مطابق ہے یا یہ کوئی ضدِ انقلاب ہے۔ صورتحال کچھ یوں ہے کہ کچھ علماء نے جمہوریت کو  ولایت اور نظام ولایت کی ضد قرار دیا اور اپنے پیروکاروں کو جمہوری سسٹم کا حصہ بننے اور انتخابات میں حصہ لینے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا، جس کی وجہ سے اس طبقہ کے درمیان جو خود کو انقلابی اور ولائی طبقہ قرار دیتا ہے، شدید قسم کی بحث چھڑ گئی، جو کہ اب آہستہ آہستہ نفرت میں بدلتی چلی جا رہی ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ آج جب ہم انقلاب کے بانی، امامِ راحل، رہبر کبیر حضرت امام خمینی (رح) کی 36 ویں برسی منا رہے ہیں تو اس موضوع یعنی انقلاب، جمہور اور انتخابات کو خود رہبر کبیر حضرت امام خمینی کے فرامین کی روشنی میں دیکھیں، تاکہ ایک انقلابی، فکری اور ولائی طبقہ کے درمیان تیزی سے پھیلتی ہوئی نفرت کو روکنے میں جس حد تک ممکن ہو، اپنا کردار ادا کرسکیں۔

امام راحل کے فرامین نقل کرنے سے پہلے اپنے قارئین کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے فوراً بعد ایک یا دو ماہ کے اندر اندر حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے ایک ریفرنڈم کروایا، جس کے ذریعے عوام کی بہت بڑی اکثریت نے یہ رائے دی کہ ہم اپنے ملک میں اسلامی جمہوری نظام چاہتے ہیں اور پھر امام نے عوام کی اسی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک میں اسلامی جمہوری نظام کا قیام کیا اور یہ جمہوری نظام اتنا پائیدار اور پختہ ہے کہ آٹھ سالہ دفاعی جنگ میں بھی کبھی ایرانی انتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہوئی۔ البتہ بین الاقوامی سطح پر ایران مخالف قوتیں ان انتخابات کو انتخابات تسلیم نہیں کرتیں اور نہ ہی ایران کی جمہوریت کو جمہوریت تسلیم کرتی ہیں، حالانکہ وہی قوتیں عربوں کی شاہی حکومتوں اور آمریت کو بھی دل و جان سے آئینی اور قانونی حکومتیں تسلیم کرتی ہیں اور ان کی بقا کے لیے سب کچھ کرنے کو بھی تیار رہتی ہیں۔

اب یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ انقلاب عوام یعنی جمہور اور انتخابات کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔ امام خمینی اس انقلاب کو ایک مکمل اسلامی انقلاب کے ساتھ عوامی انقلاب بھی قرار دیتے تھے۔ امام خمینی رضوان اللہ علیہ اس انقلاب کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ انقلاب حقیقت میں سب سے بڑا اور بہترین انقلاب تھا، ہمہ گیر ہونے کے لحاظ سے۔ پھر فرماتے ہیں کہ ہمارا عظیم اسلامی انقلاب سیاسی و اجتماعی انقلاب ہونے سے پہلے ایک معنوی اور روحانی انقلاب ہے۔ ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ ہمارے عوامی انقلاب کا دارومدار عوام پر ہے، لہذا عوام کو اپنے انقلاب پر مرتب ہونے والے اثرات کا شکوہ نہیں کرنا چاہیئے۔ امام خمینی رضوان اللہ علیہ انقلاب اور نظام کی بقاء اور پائیداری کے لیے جمہور یعنی عوام کی شرکت اور عوام کی رائے کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: "ساری قوم کو سیاسی معاملات میں دخیل ہونا چاہیئے، آپ مسلمان عوام کی میدان عمل میں موجودگی ہے، جو تاریخی ستم گروں اور حیلہ بازوں کی سازشوں کو ناکارہ بنا رہی ہے، جو چیز ہم سب پر لازم ہے، وہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کو میدان میں حاضر رکھنے کی فکر میں رہیں۔

انقلاب کے نتیجے میں نافذ ہونے والے نظام کی حفاظت اور بقاء کے متعلق ارشاد فرمایا کہ "اس جمہوری اسلامی کی حفاظت سب سے بڑے فرائض میں سے ہے۔ انتخابات کی اہمیت اور عوام کو ان انتخابات میں شرکت سے متعلق حضرت امام خمینی نے بہت واضح اور بہت سخت قسم کے ارشادات فرمائے ہیں اور بعض فرامین سے تو ایسے لگتا ہے، جیسے حضرت امام خمینی عوام کی انتخابات میں شرکت کو واجب سمجھتے تھے، جیسے کہ ارشاد فرمایا کہ "آپ سب حضرات و خواتین اور ہم سب اور ہر مکلف کو جس طرح نماز پڑھنا چاہیئے، اسی طرح اپنی تقدیر معین کرنے میں بھی شریک ہونا چاہیئے۔ آج مسئولیت کا بوجھ ملت کے کاندھوں پر ہے، اگر ملت کنارہ کش ہو جائے، مومن اور باعمل اشخاص گھروں میں بیٹھ جائیں اور جن افراد نے اس ملک کے لیے منصوبہ بنا رکھا ہے، وہ دائیں بائیں سے پارلیمنٹ میں گھس آئیں تو اس کی ذمہ دار ملت ہے۔ اگر لوگ اسلام، استقلال، آزادی اور شرق و غرب کے زیر اثر نہیں رہنا چاہتے تو سب انتخاب میں شرکت کریں۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں کہ "اس ملت شریف کو میری وصیت یہ ہے کہ تمام انتخابات میں شرکت کریں، چاہے صدارتی انتخابات ہوں یا پارلیمانی یا شورائی رہبری یا رہبر کے تعین کے لیے خبرگان کے انتخابات ہوں، ہر قسم کے انتخابات میں شرکت کریں۔ ملت اپنے ووٹ کے ذریعے صدر کو منتخب کرتی ہے، جمہوری اسلامی کو ووٹ دیتی ہے اور پارلیمنٹ میں موجود اپنے ووٹ کے ذریعے حکومت کو معین کرتی ہے، گویا تمام امور میں ملت کا ہاتھ ہے۔ عوام کے ذریعے، عوام کے ووٹوں کے ذریعے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ اور اس کی اہمیت کے متعلق امام راحل حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ "پارلیمنٹ ملت کا حقیقی گھر ہے، پارلیمنٹ کے سامنے جھکنا اسلام کے سامنے جھکنا ہے، پارلیمنٹ تمام امور میں سر فہرست ہے۔"

نقل کیے گئے فرامین پر غور کرنے سے جو نتائج اخذ ہوتے ہیں، ان کے مطابق امام خمینی رضوان اللہ علیہ امور سلطنت میں عوام کی شرکت کو واجب کے قریب تر سمجھتے تھے۔ وہ عوام کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سختی کے ساتھ حکم دیتے تھے۔ امام خمینی انقلاب اسلامی کے بعد اپنے وطن کو جمہوری اسلامی سمجھتے تھے اور اس انقلاب کو جو کہ اصلاً ایک اسلامی انقلاب تھا، اس کو اسلامی عوامی انقلاب سمجھتے تھے۔ حضرت امام خمینی عوام کے ووٹوں کے ذریعے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ کو ایک مقدس ادارہ سمجھتے تھے اور اس کے سامنے جھکنے کو اسلام کے سامنے جھکنا قرار دیتے تھے۔ حضرت امام خمینی جمہور کے ذریعے منتخب کی گئی پارلیمنٹ کو سلطنت کے تمام امور میں سر فہرست قرار دیتے تھے،
بلکہ جمہوری اسلامی ایران میں ولی فقیہ کا انتخاب بھی بالواسطہ عوام کے ووٹوں کے ذریعے ہوتا ہے، بالواسطہ اس لیے کہ پہلے عوام اپنے براہِ راست ووٹوں سے مجلس خبرگان کے نمائندگان کا انتخاب کرتی ہے اور پھر وہی مجلس خبرگان ضرورت پڑنے پر رہبر یا ولی فقیہہ کا انتخاب کرتی ہے باقاعدہ انتخاب کے ذریعے۔

اس سلسلے میں ایران کے موجودہ سپریم لیڈر یعنی ولی فقیہ کا انتخاب اس کی واضح مثال ہے۔ اس لیے میری رائے میں کسی بھی اسلامی ملک میں جمہوری نظام کی مخالفت کرتے ہوئے اس نظام کو ایران کے اسلامی و ولائی نظام کی ضد قرار دیتے ہوئے ایران کے نظام کو ولایت اور جمہوری نظام کی ضد قرار دینے کا مطلب یہ ہے آپ دانستہ یا نادانستہ طور پر ان اسلام دشمن قوتوں کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں، جو جمہوری اسلامی ایران کے مثالی جمہوری نظام کو غیر جمہوری یا شخصی نظام اور آمریت کی ہی ایک قسم قرار دیتے ہیں، حالانکہ ایران کے جمہوری نظام جیسا مثالی جمہوری نظام پوری دنیا میں کہیں بھی رائج نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امام خمینی رضوان اللہ علیہ انتخابات میں شرکت ارشاد فرماتے ہیں کے ذریعے منتخب کے سامنے جھکنا جمہوری اسلامی اسلامی انقلاب فرماتے ہیں کہ قرار دیتے تھے عوامی انقلاب اور انتخابات جمہوری نظام پارلیمنٹ کو کو جمہوری کا انتخاب اس انقلاب انقلاب کے کے متعلق کو اسلام ایران کے ملک میں کرتی ہے نظام کی عوام کی عوام کو اور ان کے لیے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان