18 سال سے کم بچوں کی شادی پر پابندی کا قانون وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
18 سال سے کم بچوں کی شادی پر پابندی کے قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کردیا گیا،قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت آصف زرداری نے 30 مئی کو ’اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل‘ پر دستخط کرکے اس کی منظوری دی تھی۔
شہری شہزادہ عدنان نے اپنے وکیل مدثر چوہدری ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کردی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چائلڈ میرج ریسٹرین بل 2025 خلاف قرآن، حدیث اور آئین کے خلاف بنایا گیا ہے، درخواست میں قرآنی آیات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
شادی سے متعلق قانون میں قید بامشقت کی سزا رکھی گئی ہے جوکہ خلاف آئین و قانون ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ قرآن و سنت کے منافی قانون کو کالعدم قرار دیا جائے اور ریاست کو اس قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے سے روکاجائے۔
واضح رہے کہ 30 مئی کو ایوان صدر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2025 کو پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد صدر کی منظوری حاصل ہو گئی ہے۔
پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے اس قانون کو پاکستان میں بچوں کی شادیوں کے خلاف قانون سازی کی ایک اہم منزل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مختلف حلقوں کی مزاحمت کے باوجود یہ کامیابی حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل پر دستخط اصلاحات کے ایک نئے دور کی علامت ہیں، یہ خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کی جیت ہے، یہ قانون ایک لمبی اور مشکل جدوجہد کے بعد ممکن ہوا۔
سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا تھا کہ یہ بل محض ایک قانون نہیں بلکہ اس عزم کی علامت ہے کہ ہماری بچیوں کو تعلیم، صحت اور خوشحال زندگی کا حق حاصل ہے۔
دوسری طرف، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ملک کی اسلامی شناخت کو ختم کیا جا رہا ہے، قرآن اور سنت کے منافی قانون سازی ہورہی ہے۔
یکم جون کو پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کے لیے قانون سازی کا مطلب ہے کہ ہم ابھی بھی نوآبادیاتی اور غلامی کے دور سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی اسلامی شناخت کو ختم کیا جا رہا ہے، قرآن اور سنت کے منافی قانون سازی ہورہی ہے، جبکہ ملکی آئین میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ قرآن اور سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں ہوگی، پاکستان میں جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے اور آئین کو پامال کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زنا بالرضا کے لیے آسانیاں پیدا کی جارہی ہیں اور جائز نکاح کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں، اسلامی نظریاتی اس بل کو مسترد کرچکی ہے، تمام علما اور ان کی تنظمیں جماعتیں بھی اسے قرآن اور سنت کے منافی قرار دے چکی ہیں۔
سربراہ جے یو آئی ( ف ) نے مزید کہا کہ ہم اس بل کو مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف عملی اقدامات کی طرف بھی جائیں گے، صوبوں میں جلسے منعقد کریں گے، 29 جون کو ہزارہ ڈویژن میں اس حوالے سے بڑی پریس کانفرنس کی جائے گی اور عوامی شعور بیدار کیا جائے گا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قرا ن اور سنت کے منافی بچوں کی شادی چائلڈ میرج کہا تھا کہ کہا کہ نے کہا گیا ہے
پڑھیں:
بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی آئینی عدالت نے بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار دے دیں۔وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت نے تفصیلی فیصلہ میں لکھا کہ یہ ہڑتالیں سائلین کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہیں، ایسی ہڑتالیں شہریوں کو قانونی نمائندگی سے محروم اور پہلے سے دباؤ کا شکار اور عدالتی نظام پر مزید بوجھ ڈالتی ہیں، جب ہڑتال کی کال دی جاتی ہے تو وکلا تنظیمیں وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روکتی ہیں۔
سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
فیصلہ میں بتایا گیا کہ وکیل کی عدم پیشی پر مقدمے کی سماعت بغیر کسی پیش رفت کے ملتوی کر دی جاتی ہے، ہمارا قانونی نظام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، عدالتوں میں مقدمات کی طویل فہرستیں موجود ہیں، سائلین کو اپنے مقدمات کے فیصلے کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ چاہے وکلا کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، یہ مسئلے کا حل نہیں، انصاف تک رسائی سے کسی بھی شکل میں محروم کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کے پی بار کونسل نے وکلا کو وکیل کے قتل میں نامزد ملزم ایس ایچ او کی قانونی نمائندگی سے روکا، پولیس افسر کی قانونی نمائندگی پر وکیل کا لائسنس معطل کر دیا گیا، متاثرہ وکیل نے لائسنس معطلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تاہم پشاور ہائیکورٹ نے درخواستیں منظور کرتے ہوئے لائسنس بحالی کا فیصلہ دیا۔
سندھ سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت
آئینی عدالت نے وکیل کے لائسنس بحال کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔