ملک میں تنخواہ دار طبقے نے ٹیکس دینے میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)مختلف شعبوں سے ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جس کے مطابق تنخواہ دار طبقہ ٹیکس دینے میں سب سے آگے ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ تنخواہ دار طبقہ ٹیکس دینے میں سب کو پیچھے چھوڑ گیا، تنخواہ دار طبقے نے رواں مالی سال کے 11 ماہ میں 499 ارب روپے ٹیکس دیا ۔
ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقےکا ٹیکس کسی بھی شعبے سے وصول ٹیکس سے زیادہ ہے۔رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ برآمدات کے شعبے سے 96 ارب 36 کروڑ روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔
رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ جائیداد کی فروخت سے 110 ارب 18کروڑ روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ جائیداد کی خریداری سے 109ارب 68 کروڑ روپے ٹیکس وصول ہوا۔
تھوک کے کاروبار سے 11 ماہ میں 22 ارب 36کروڑ روپے ٹیکس حاصل ہوا۔ پرچون کے کاروبار سے 11 ماہ میں33ارب 30کروڑ روپے ٹیکس اکٹھا ہوا۔
ملیر جیل سے فرار مزید قیدی گرفتار ، دیگر کی تلاش جاری
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: تنخواہ دار ٹیکس وصول روپے ٹیکس
پڑھیں:
نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔