خیبرپختونخوا کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
دو نئے معاون خصوصی کی تعیناتی کیلئے تیاریاں مکمل کر لی گئی، قیادت کی مشاورت آخری مرحلے میں ہے۔
سابق ناظم پشاور محمد عاصم کو معاون خصوصی بنانے کیلئے سمری گورنر کو ارسال کر دی گئی ۔
سابق سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کو بھی معاون خصوصی بنائے جانے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ اری گیشن، لوکل گورنمنٹ، پبلک ہیلتھ، ہائر ایجوکیشن، محکمہ تعلیم کے قلمدان بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
غیر تسلی بخش کارکردگی پر 3 ارکان کو صوبائی کابینہ سے نکالنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔