حزب اختلاف کی 16جماعتوں کا مودی سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے رہنمائوں جے رام رمیش، سنجے رائوت، رام گوپال یادو، ڈیریک اوبرائن، دپیندر ہڈا اور منوج جھا نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اگر بیرون ملک کثیر جماعتی وفود بھارت کا موقف پیش کر سکتے ہیں تو پارلیمنٹ میں حکومت بحث کیوں نہیں کرا سکتی۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں حزب اختلاف کی 16جماعتوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے پہلگام واقعے اور آپریشن سندھور پر بحث کے لئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے رہنمائوں جے رام رمیش، سنجے رائوت، رام گوپال یادو، ڈیریک اوبرائن، دپیندر ہڈا اور منوج جھا نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اگر بیرون ملک کثیر جماعتی وفود بھارت کا موقف پیش کر سکتے ہیں تو پارلیمنٹ میں حکومت بحث کیوں نہیں کرا سکتی؟ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے وزیراعظم مودی کو مشترکہ طور پر خط لکھ کر پاکستان کے خلاف آپریشن سیندور پر بحث کیلئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں دارالحکومت دہلی میں اپوزیشن اتحاد کی جماعتوں کی میٹنگ ہوئی۔ اس میں کانگریس، ترنمول کانگریس، راشٹریہ جنتا دل، سماج وادی پارٹی، شیو سینا (یو بی ٹی)، نیشنل کانفرنس، سی پی ایم، آئی یو ایم ایل، سی پی آئی، ریوولوشنری سوشلسٹ پارٹی، ڈی ایم کے، سی پی آئی(ایم ایل) سمیت دیگر جماعتوں کے لیڈران نے شرکت کی۔
میٹنگ میں انڈیا بلاک کے ممبران پارلیمنٹ نے خصوصی اجلاس بلائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعظم مودی کے نام ایک خط پر دستخط کئے ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش اور دپیندر ہڈا، ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک اوبرائن، سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو، راشٹریہ جنتال کے لیڈر منوج جھا اور شیو سینا (یو بی ٹی)کے لیڈر سنجے رائوت نے میٹنگ میں شرکت کی۔ عام آدمی پارٹی میٹنگ میں شامل نہیں ہوئی لیکن اس نے علیحدہ طور پر وزیراعظم مودی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میٹنگ کے بعد دپیندر ہڈا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پہلگام حملے کے بعد کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے جوابی کارروائی کے لئے حکومت کی مکمل حمایت کی تھی۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے تاکہ حکومت اس پورے معاملے پر اپنا موقف پیش کر سکے۔
ہڈا نے کہا کہ جب حکومت دوسرے ممالک میں اپنی بات رکھ رہی ہے اور اپنے کئی وفود وہاں بھیج چکی ہے تو ملک کی پارلیمنٹ میں بھی ان مسائل پر گفتگو ہونی چاہیے کیونکہ پارلیمنٹ سے ملک کے کروڑوں عوام کے جذبات وابستہ ہیں۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ 16 جماعتوں نے وزیراعظم کو خط لکھ کر پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے اور پارلیمنٹ ملک کے عوام کو جوابدہ ہے۔ اسی لئے ہم پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پریس کانفرنس سے سنجے رائوت اور منوج جھا نے بھی خطاب کیا۔ ان دونوں نے بھی وہی مطالبہ دہرایا کہ خصوصی اجلاس فوری طور پر بلایا جانا چاہیے۔ واضح رہے بھارتی حکومت پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد اپنے عوام سے حقائق چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس پریس کانفرنس سنجے رائوت حزب اختلاف کا مطالبہ منوج جھا کے لیڈر کیا ہے کہا کہ
پڑھیں:
ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔
سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔
سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے
اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش
ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔
اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے
سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔
سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید
سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔
ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟
انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔
سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی