انسانیت کی خدمت ا جزبہ رکھنے والے افراد حکومت سے مل کر کا م کریں ، وزیراعلٰی سندھ
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جسمانی اور اعصابی نشوونما میں مسائل کا شکار بچوں کی بحالی کے لیے قائم مرکز کا افتتاح کردیا۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ مرکز امید کی ایک کرن ہے اور ان بچوں کے لیے ہماری اجتماعی وابستگی کا مظہر ہے جو جسمانی یا اعصابی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں جن میں آٹزم اور ڈان سنڈروم جیسے امراض بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا وژن بالکل واضح ہے کہ ان بچوں کو دیکھ بھال، علاج اور مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ایک باوقار اور بھرپور زندگی گزار سکیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ مرکز ایک ہی چھت تلے ایک جامع اور مکمل طور پر مربوط سہولیات کا مجموعہ فراہم کرتا ہے جو مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ایک پرعزم ٹیم کی جانب سے مہیا کی جا رہی ہیں۔ وزیراعلی نے مرکز کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، وہاں موجود سہولیات کا جائزہ لیا اور بچوں سے ملاقات بھی کی۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ یہ مرکز ذہنی اور جسمانی دونوں قسم کی صحت کے مسائل کے علاج کی سہولت فراہم کرے گا۔ بچوں کی بحالی کے مراکز (سی آر پی ڈی)حکومت سندھ کے محکمہ بحالی معذور افراد(ڈی ای پی ڈی)کی کاوشوں کو مثر انداز میں تقویت دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افتتاح کے پہلے ہی دن مرکز میں 50بچوں کا اندراج ہو چکا ہے۔ مراد علی شاہ نے کوڑھ (لیپروسی)کے خلاف میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر (ایم اے ایل سی)کی کوششوں کو سراہا اور شاہراہِ بھٹو پر قائم ہونے والے نئے بڑے بحالی مرکز کو اجاگر کیا جو بیک وقت ہزاروں بچوں کے علاج کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بحالی مراکز کراچی، گمبٹ، لاڑکانہ، ٹنڈو محمد خان اور نوابشاہ میں قائم کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعلی نے اعلان کیا کہ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی خصوصی بچوں کے لیے ایسے مراکز قائم کیے جائیں گے۔وزیراعلی نے بتایا کہ حکومت نے کراچی میں ملیر ایکسپریس وے کے قریب 100ایکڑ بازیاب شدہ زمین پر انکلوسِو سٹی کے قیام کے لیے جگہ مختص کی ہے جو خصوصی افراد کے لیے مخصوص ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انکلوسِو سٹی ایک جامع ماحول فراہم کرے گا جس میں خصوصی افراد کے لیے اسکول، بحالی مراکز، فنی تربیتی ادارے، جنرل اسپتال، نیوروسائیکیٹری وارڈ اور ان افراد کے لیے رہائشی سہولیات ہوں گی جنہیں مسلسل دیکھ بھال اور تعاون کی ضرورت ہے۔اس منصوبے میں 20ایکڑ پر مشتمل ایک پارک بھی شامل ہے جو خصوصی بچوں کے لیے محفوظ اور خوشگوار کھیل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جبکہ ایک بڑی عمارت بھی تعمیر کی جائے گی جہاں فلاحی تنظیموں کے دفاتر قائم ہوں گے۔ وزیراعلی سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ کے الیکٹرک اور دیگر بجلی تقسیم کرنے والے اداروں کے انتظامی بورڈز میں صوبے کی نمائندگی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ صوبے کے صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ آئینی طور پر بجلی کی تقسیم صوبائی ذمہ داری ہے لیکن اسے ہمیشہ وفاقی حکومت ہی چلاتی رہی ہے۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ حکومت حیسکو (حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی)اور سیپکو (سکھر الیکٹرک پاور کمپنی)کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت چلانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کارکردگی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایسی خدمات مثر انداز میں چلانے کے لیے تکنیکی طور پر ماہر اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے تصدیق کی کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت سے بات چیت جاری ہے اور کہا کہ اگرچہ ہمارا کام جاری ہے لیکن اس کے نتائج آنے میں وقت لگے گا۔وزیراعلی نے بجلی تقسیم کرنے والے اداروں کی ناقص فیصلہ سازی پر تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ ایسے فیصلوں کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈال دی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے نے کہا کہ یہ وزیراعلی نے بتایا کہ انہوں نے بچوں کے کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔