کراچی:

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد قیدیوں کو باہر نکالنا غلط فیصلہ تھا، ذمے داروں کو سزا ملے گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملیر جیل کے واقعے پر تشویش ہے، اس پر تحقیقات چل رہی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کے بعد قیدیوں کو نکالا گیا۔ ملیر جیل کے قیدیوں کو باہر نکالا گیا یہ غلط فیصلہ لیا گیا،ذمے داروں کو سزا ملے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایسا عمل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ایک قیدی کی ڈیتھ ہو گئی ۔ 216 قیدی فرار ہو ئے تھے 83 قیدی پکڑے گئے ہیں ۔ فرار ہونے والے قیدیوں سے کہتا ہوں کہ وہ سرنڈر کر دیں،  نہیں تو اے ٹی سی کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

سندھ کا بجٹ 13 جون کو پیش ہوگا

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبے کا بجٹ 13جون کوپیش کیا جائے گا۔ بجٹ میں زراعت کے شعبے کواہمیت  دی گئی ہے۔ کے الیکٹرک نجی تحویل میں دینے سے پہلے سندھ حکومت کو اعتماد میں نہیں کیا گیا ۔ کے الیکٹرک بورڑ میں صوبے کی کوئی نمائندگی نہیں، وفاقی نمائندے ہیں۔ کے الیکٹرک بورڈ کے اندر صوبے کے نمائندے ہونے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو کو نجی ادارے کے ذریعے چلانے کا ارادہ ہے۔ امن وامان کی ذمے داری صوبائی اداروں کی ہے۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ بجلی کے خلاف احتجاج کریں لیکن سڑک بند نہ کریں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کے فائیو کے منصوبے کو برقت مکمل کیا جائے گا۔ ڈمپر مافیا کے خلاف کاروائیوں کے بعد حادثات میں کچھ کمی آئی ہے ۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان قیدیوں کو کے بعد

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود