سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے کشیدگی بڑھے گی ،طارق فاطمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے کشیدگی بڑھے گی۔طارق فاطمی نے روس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے ملاقات کی،ملاقات میں توانائی ، تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی گئی ۔طارق فاطمی نے روسی وزیرخارجہ کو جنوبی ایشیا کی صورتحال سے آگاہ کیا۔انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کا صدر پیوٹن کیلئے خط بھی حوالے کیا،روسی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ روس انسداد دہشت گردی کیلئے مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے ،ایس سی او فریم ورک کے اندر مختلف شعبوں میں مل کر کام کرنا چاہتے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: طارق فاطمی
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔