بھارت میں فرقہ وارانہ نفرت کی لہر کے پیچھے مودی سرکار ہے، سابق ہوم سیکرٹری کی سخت تنقید
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
بھارت کے سابق ہوم سیکرٹری گوپال پلئی نے مودی سرکار کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔
گوپال پلئی کے مطابق مودی حکومت ملک میں فرقہ وارانہ بیانیے کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ کرن تھاپر کی جانب سے پروگرام میں سوال کیا گیا کہ سرعام کہا جاتا ہے کہ گولی مارو سالوں کو تو ایسے لوگوں کو ہٹانے کے بجائے ان کو ترقی دیدی جاتی ہے؟
سابق ہوم سیکرٹری گوپال پلئی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگوں کو ترقی دینے سے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ نفرت انگیز بات کریں گے تو حکومت کی حمایت آپ کے ساتھ ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے آئینی حلف کی روح کو پامال کیا ۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویہ ریاستی سرپرستی میں جاری ہے۔ سابق ہوم سیکرٹری گوپال پلئی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جو ہندو اس وقت بھارت کے حالات پر خاموش بیٹھے ہوئے ہیں وہ دراصل بھارت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
گوپال پلئی کے مطابق اس طرح کے منفی کام بھارت میں مذہبی تفریق، داخلی انتشار کو جنم دے سکتے ہیں۔ اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک بھارت کی جمہوریت کے لیے چیلنج ہے۔ وزیراعظم مودی کا طرزِ عمل ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
سابق بھارتی ہوم سیکرٹری نے کہا کہ ملک کا اتحاد مذہبی رواداری سے مشروط ہے۔ کوئی بھی ملک جہاں فرقہ وارانہ فسادات ہوں، ترقی نہیں کر سکتا اور اگر تبدیلی نہ لائی گئی تو موجودہ حکومت کو تاریخ ایک تاریک باب کے طور پر یاد رکھے گی۔
بھارتی سابق ہوم سیکرٹری کے خیالات ثابت کرتے ہیں کہ بھارت کا سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ یہ باتیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سابق ہوم سیکرٹری بھارت میں کہا کہ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :