ایم کیو ایم لوڈشیڈنگ پر بڑا فیصلہ کرنے جا رہی ہے: خالد مقبول صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے معاملے پر بڑا فیصلہ کرنے جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج برائے خواتین کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چائنا کے تعاون سے شروع ہونے والے کورس کا افتتاح کردیا۔
چیئر مین متحدہ قومی مومنٹ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی اس وقت بارود کے ڈھیر پر ہے۔
تقریب سے خطاب میں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ دنیا تبدیل ہو چکی ہے، لیکن ہم نے خود کو نہیں بدلا، جو جدید دنیا سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکے گا وہ بہت پیچھے رہ جائے گا، میں اتنا ہی سچ بولتا ہوں جتنی پاکستان میں جمہوریت ہے۔
انہوں نے کہا کہ چائنا پاکستان کو ٹیکنالوجی دینے کو تیار ہے اور ہم لینے کو تیار نہیں، جدید دنیا آبادی کے بحران کا شکار ہے، تعلیمی اداروں میں بچیوں کے لیے جگہ بنانی ہے، پاکستان کی تعمیر اور ترقی کے لیے کراچی سب سے آگے ہے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ 18ویں ترمیم کے نتیجے میں ڈیویلیوشن کی جگہ اکیومولیشن آف پاور ہوگیا، کراچی جتنا ٹیکس دیتا ہے اس کو تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہونا چاہیے۔
صرف لیاقت آباد ملک کے بڑے شہر سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، کے الیکٹرک بتائے کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کیوں ہو رہی ہے، کرپشن ایک صنعت کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خالد مقبول صدیقی نے ایم کیو ایم نے کہا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :