لائن آف کنٹرول نہیں سیز فائر لائن، شملہ معاہدہ ردی کی ٹوکری میں!
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
سٹی42: وزیر دفاع خواجہ آصف نے شملہ معاہدہ کی منسوخی کا نعرہ مستانہ بلند کر دیا۔ وزیر دفاع نے ایک نیوز چینل سے انترویو کے دوران کہا، شملہ معاہدے کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی،کنٹرول لائن اب سیز فائر لائن ہوچکی ہے۔
خواجہ آصف علی کے اعلان کا معنی یہ ہے کہ اب پاکستان مقبوضہ کشمیر اور پاکستان سے الحاق کر چکے آزاد کشمیر کو دو حصوں میں ابنٹنے والی نام نہاد لائن آف کنترول کو تسلیم نہین کرے گا۔ اس لائن کی حیثیت صرف سیز فائر لائن کی ہے جو 1948 کی کشمیر کی آزادی کی جنگ کے خاتمہ کے روز پاکستان اور انڈیا کے کنٹرول میں موجود علاقوں کی نشان دہی کرتی ہے اور اس کی یہ خاص حیثیت اقوام متحدہ کی قرارداد کے ذریعہ بنی جو کشمیر کے مستقبل کا تعین کرنے کے لئے کشمیری عوام کی آزادانہ رائے شماری پر زور دیتی ہے۔
چاند رات پر ون ویلنگ نہیں ہوگی ، ڈولفن کی 97 ٹیمیں ویلرز کو پکڑنے کے لیےتیار
پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید نے دسمبر 1971 میں بھارت کے شب خون کے دوران مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں قید ہونے والے پاکستانی سپاہیوں کو انڈیا سے واپس لانے کے لئے 1972 میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے ساتھ شملہ میں جو جنگ بندی معاہدہ کیا تھا اس کی ایک شق کے تحت پاکستان نے کشمیر میں سیز فائر لائن کو لائن آف کنترول تقسیم کر لیا تھا۔ اس معاہدہ کی ایک مبہم شق میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان اور انڈیا اس معاہدہ کے بعد اپنے باہمی تنازعات کو باہمی مذاکرات سے طے کریں گے اور کسی انٹرنیشنل فورم پر نہیں لے جائیں گے۔
پنجاب بھرکیلئےترقیاتی پروگرام لارہےہیں،مریم اورنگزیب
اب وزیر دفاع خواجہ آصف علی نے ایک نیوز چینل سےگفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شملہ معاہدہ دو ممالک کے درمیان ہے، اس میں ورلڈ بینک یا کوئی تیسرا فریق نہیں ہے، (پاکستان جب چاہے اپنی طرف سے یہ معاہدہ منسوخ کر سکتا ہے)۔ خواجہ آصف علی نے کہا، شملہ معاہدہ نہ ہونے سے کنٹرول لائن سیز فائر لائن ہو جائےگی، سیز فائرلائن اس کا اصل اسٹیٹس تھا جو بحال ہوجائےگا۔
بیلا روس کے ایئر فورس کمانڈر کی ایئر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد آمد، پاک فضائیہ کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا
خواجہ آصف جو مسلم لیگ نون کے سینئیر لیڈر بھی ہیں، انہوں نےکہا کہ 1948 کے بعد رائے شماری سے متعلق جو ہوا اس کے بعد یہ سیز فائر لائن ہے، بھارت کے اقدامات کی وجہ سے شملہ معاہدے کی حیثیت اب ختم ہوگئی ہے۔ جنگ کے بعد جو ہوا اس سے شملہ معاہدے کی وقعت کچھ نہیں رہی۔
خواجہ آصف علی نے کہا، ہم 1948 کی پوزیشن پر واپس جا رہے ہیں جب یہ سیز فائر لائن کا معاملہ تھا، کشیدگی پر ہم نے واضح کیا تھا کہ اگر یہی رہا تو معاہدوں کی قدر و قیمت نہیں رہےگی۔
سندھ حکومت نے عید الاضحٰی کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری کردیا
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ "سندھ طاس معاہدے" کا کوئی فریق یکطرفہ طور پر اس سے نہیں نکل سکتا۔ سندھ طاس معاہدے سے متعلق تمام اقدامات مشترکہ ہو سکتے ہیں، بھارت کبھی 6 ہزار کیوسِک تو تو کبھی 25 ہزار کیوسک پانی چھوڑتا ہے، بھارت اپنی مرضی سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف علی سیز فائر لائن شملہ معاہدہ معاہدہ کی کے بعد کے لئے لائن ا
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس