آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان ایل این جی ایگریمنٹ 3 سال بڑھانے کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
آذربائیجان اسٹیٹ آئل اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)کے درمیان ایل این جی فریم ورک ایگریمنٹ تین سال بڑھانے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کے دورہ آذربائیجان سے متعلق اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔اعلامیے کے مطابق صدر آذربائیجان الہام علیوف نے وفاقی وزیرِ اعلی پرویز کو باکو آمد پر خوش آمدید کہا ہے۔علی پرویز ملک نے باکو انرجی ویک سے خطاب اور عالمی توانائی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں، علی پرویز ملک نے سی ای او ترکش پیٹرولیم احمد ترکوگلو، اماراتی کمپنی مبادلہ کے چیئرمین اور آذربائیجان کے وزیرِ توانائی اور وزیرِ خزانہ سے بھی توانائی شراکت داری پر بات چیت کی۔علی پرویز ملک سے وزیرِ اعظم آذربائیجان علی اسادوف نے بھی ملاقات کی۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ آذربائیجان پاکستان میں مختلف شعبوں میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔اعلامیے کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان توانائی شعبے میں سرمایہ کاری کا تسلسل ہے، آذربائیجانی قیادت کی وزیرِ پیٹرولیم سے ملاقاتیں پاک آذربائیجان اسٹریٹیجک تعلقات کی عکاس ہیں۔اعلامیے کے مطابق صدرآذربائیجان نے کہا ہے کہ پاک ترکیے آذربائیجان سہ فریقی اجلاس بھائی چارے اور یکجہتی کی علامت ہے، پاکستان آذربائیجان کے مابین شراکت داری نئی منزلوں کو چھو رہی ہے، اس تعاون کو توانائی کے شعبے میں مزید بڑھائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔