کراچی، کباڑ کے بڑے گودام میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے سہراب گوٹھ کے قریب مچھر کالونی میں واقع کباڑ کے بڑے گودام میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی، آگ کی شدت اس قدر زیادہ ہے کہ شعلے اور دھواں دور دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مذکورہ مقام پر استعمال شدہ کپڑوں، پلاسٹک اور دیگر اشیاء کے کئی گودام موجود ہیں، جہاں اچانک لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے 15 گوداموں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آگ لگنے کے بعد علاقہ دھوئیں سے بھر گیا اور فضا میں سانس لینا مشکل ہوگیا۔
عینی شاہدین کے مطابق فائر بریگیڈ کے عملے کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ متعدد فائر ٹینڈرز موقع پر پہنچ چکے ہیں تاہم اُن میں موجود پانی ختم ہوگیا ہے اور تاحال واٹر ٹینکرز موقع پر نہیں پہنچ سکے۔
فائر فائٹرز اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے لیے مزید فائر ٹینڈرز طلب کرلیے گئے ہیں، تاہم پانی کی فراہمی میں رکاوٹیں ریسکیو آپریشن کو متاثر کر رہی ہیں۔
جائے وقوعہ پر پولیس اور رینجرز کی نفری موجود ہے، ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی جبکہ آگ کے باعث جانی نقصان کی بھی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔