کائنات ’بِنگ بینگ تھیوری‘ کے بعد وجود میں نہیں آئی، محققین کا متنازع دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
دہائیوں سے سائنس دانوں کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ یہ کائنات ایک بہت بڑے دھماکے بِگ بینگ کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔
لیکن اب محققین کے ایک گروہ نے متنازع دعویٰ کیا ہے کہ اس کائنات کے وجود میں آنے کے متعلق ہم جو بھی کچھ سمجھتے ہیں عین ممکن ہے وہ سب غلط ہو۔
ایک نئے تحقیقی مقالے میں یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ کے پروفیسر اینرکے گیزٹاناگا اور ان کے شریک مصنفین نے ’بلیک ہول یونیورس‘ کا ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے۔
محققین نے دعویٰ کیا کہ یہ کائنات ایک گریویٹیشنل کرنچ کے سبب وجود میں آئی، جس سے ایک بہت بڑا بلیک ہول بنا اور پھر اس نے اِجرام اُگلے۔
پروفیسر اینریکے نے دعویٰ کیا کہ یہ نظریہ کائنات کے ڈھانچے کے متعلق ہر چیز کو ڈارک انرجی جیسے عنصر کی ضرورت کے بغیر بیان کر سکتا ہے۔
یوکلیڈ جیسے ناسا کے مشنز ممکنہ طور اس نظریے کی تصدیق کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔ جس میں بلیک ہول یونیورس نظریے کے درست ہونے کے حوالے سے واضح اشارے مل سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔